پاکستان: مشترکہ فوجی کمان؟ نئے آرمی چیف کی بحث کمزور

جنرل اشفاق کیانی پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف بنائے جا سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان میں نواز شریف حکومت کو جہاں آئندہ چند ہفتوں کے دوران عسکری قیادت کی سطح پر نئی تقرریوں اور تبدیلیوں کے بڑے چیلنج کا سامنا دیکھا جا رہا تھا وہیں جمعہ کے روز اس سالہا سال پرانی تجویز کو پذیرائی مل گئی ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی تینوں مسلح افواج کی کمانڈ چیف آف ڈیفنس سٹاف کے نئے عہدے کے تحت یکجا کر دی جائے۔

اس تجویز پر عمل درآمد کی امید بڑھنے کی صورت میں [جس کے امکانات زیادہ ہیں] نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے جاری بحث مباحثہ نسبتا کم اہم ہو جائے گا کیونکہ اس تجویز کی پذیرائی کا امکان پیدا ہونے سے پاکستان کے جہاندیدہ آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی کے تجربے سے فائدہ اٹھائے جانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ بلاشبہ اتنی بھاری بھرکم شخصیت جس نے ملک کے اندر اور باہر ایک سے سے زائد حکومتوں اور قائدین کے ساتھ کامیابی سے ڈیل کیا ہے، وہ پورے عسکری منظرنامے پر ایک بار پھر چھا جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک دہائی تک پاکستان کی سلامتی سے متعلق فیصلوں اور اقدامات کا براہ راست حصہ رہنے اور چھ سال سے کلی طور پر فوج کی کمان کرنے کے بعد جنرل کیانی سے آئندہ چند برسوں میں بھی استفادہ کیا جائےگا۔ دہشت گردی کی دلدل سے نکالنے اور امریکی و نیٹو فورسز کو افغانستان سے بحفاظت نکلنے میں مدد دینے کے لیے جنرل کیانی کی موجودگی پرملک کے اندر اور باہر ہر جگہ اتفاق ہو جائے گا۔

عسکری پس منظر رکھنے والے ذرائع کے مطابق اس تجویز کے آگے بڑھنے کا اس صورت میں امکان زیادہ ہو سکتا ہے کہ جنرل کیانی بطور آرمی چیف توسیع نہ لیں اور قومی سلامتی کے مشیر یا ایک اہم ملک میں سفارتکاری قبول کرنے کو بہتر خیال نہ کریں۔

تاہم ان ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ کے دور سے چلی آنے والی اس تجویز کو اختیار کر لیا گیا تو یہ بات اہم ہو جائے گی کہ امکانی طور پر پہلے چیف ڈیفنس سٹاف بننے والے جنرل اشفاق کیانی کے پاس فیلڈ کے حوالے سے کیا اختیارات ہوں گے۔ آیا راولپنڈی کور یا سٹریٹجک پلاننگ ڈویژن وغیرہ کا کنٹرول براہ راست انہی کے پاس رہے گا کہ نہیں۔ بعض سطحوں پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اس کنٹرول کے بغیر سی ڈی ایف کا نیا مجوزہ منصب محض رسمی قرار پائے گا جیسا کہ پہلے سے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا موجودہ منصب ہے۔

ان ذرائع کے مطابق دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح فوج کی مشترکہ کمانڈ کے فیصلے کے بعد آرمی چیف کے تقرر کے لیے ترجیحات کا مختلف انداز میں ترتیب پانا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ غالب امکان یہ ہے کہ آرمی چیف کے منصب کے لیے سینارٹی ترجیح بننے سے شریف حکومت کو'' فیس سیونگ ''مل جائے گی۔ بصورت دیگر نئے آرمی چیف کی تقرری میں سینارٹی کے ساتھ ساتھ افغانستان اور طالبان فیکٹر کے علاوہ ٹی ٹی پی کا فیکٹر بھی اہم رہے گا۔

ذرائع کے مطابق اس نئی پیش رفت کے بعد جنرل ہارون اسلم، ایک مرتبہ پھر آرمی چیف کی دوڑمیں سمجھے جائیں گے، جبکہ جنرل راشد محمود اور جنرل طارق خان کے امکانات کو مکمل اور فوری طور پر کم قرار نہیں دیا جا سکے گا۔ ایک اضافی فائدہ جنرل کیانی کے لیے آئندہ برسوں میں بھی بھرپور سیکورٹی اور پروٹوکول کی ضروریات کا پورا ہونا ہو گا، جیسا کہ جنرل مشرف کے لیے بھی اس مسئلے کا سامنا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں