.

ملازمت میں توسیع کا خواہشمند نہیں ہوں: جنرل اشفاق کیانی

’29 نومبر 2013 کو ریٹائر ہو جاؤں گا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خواہشمند ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے بیان کے مطابق جنرل کیانی نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ماہ اپنی مدتِ ملازمت کے اختتام پر ریٹائر ہو جائیں گے۔ بیان کے مطابق اپنے مستقبل کے بارے میں جنرل کیانی نے کہا ہے کہ ادارے اور روایات کسی فرد سے کہیں زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی موجودہ ذمہ داریوں اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں میڈیا میں بحث جاری تھی اور ہر قسم کی افواہیں اور قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں اور کئی رپورٹوں میں انہیں کچھ نئی ذمہ داریاں سونپنے کا بھی ذکر ہوا۔

"چھ برس تک دنیا کی بہترین فوج کی قیادت کا موقع ملا اور اب یہ دوسروں کی باری ہے کہ وہ پاکستان کو ایک حقیقی طور پر جمہوری، خوشحال اور پرامن ملک بنانے کا مشن آگے بڑھائیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کی سیاسی قیادت اور قوم کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے قومی تاریخ کے اس اہم موڑ پر ان پر اعتماد کیا لیکن وہ اس عمومی رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’ادارے اور روایات افراد سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور انہیں ہی فوقیت دی جانی چاہیے۔‘

بیان کے مطابق جنرل کیانی نے کہا ہے کہ انہیں چھ برس تک دنیا کی بہترین فوج کی قیادت کا موقع ملا اور اب یہ دوسروں کی باری ہے کہ وہ پاکستان کو ایک حقیقی طور پر جمہوری، خوشحال اور پرامن ملک بنانے کا مشن آگے بڑھائیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب جبکہ ان کی مدتِ ملازمت پوری ہو رہی ہے ملک میں جمہوری عمل جڑ پکڑ چکا ہے اور فوج اس جمہوری نظام کی مکمل طور پر حامی ہے اور اسے مضبوط کرنا چاہتی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آئی تھیں جن میں جنرل کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع یا انہیں حکومت کی جانب سے کوئی اور اہم عہدہ دینے کے امکانات ظاہر کیے گئے تھے۔

تجزیہ کاروں نے انکے اس اقدام کی تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ کہا کہ انہیں پاک فوج کا مستقبل بہت روشن نظر آ رہا ہے اور یہ کہ آنے والی نئی فوجی قیادت میں اپنا لوہا منوانے اور مستقبل میں ہر قسم کے حالات کا ڈٹ کر سامنہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

فوج کے چیف کے ساتھ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی جنرل خالد شمیم وائیں کے ریٹائرمینٹ کے بعد خالی ہے۔ فوج کی اعلیٰ کمان سنبھالنے کی دوڑ میں پانچ سب سے سینئر جنرل ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلام، لیفٹیننٹ جنرل طارق خان، لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود، لیفٹیننٹ جنرل راہیل شریف، لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام شامل ہیں۔