شدت پسندوں سے مذاکرات آئینی حدود میں ہونے چاہیئں: جنرل کیانی

قوت کا استعمال 'آخری حربہ' ہونا چاہیئے، فوج اس کی مکمل اہل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے دہشت گردی کا مذاکراتی حل ملک کے ’’آئین کے اندر رہتے ہوئے‘‘ تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔

شمالی شہر ایبٹ آباد میں فوج کی مرکزی تربیت گاہ پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے)، کاکول، میں ہفتہ کو 128 ویں لانگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب میں جنرل کیانی نے حکومت کی جانب سے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کی دوبارہ حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قوم اور سیاسی قیادت کو ہی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ مذاکرات کن حدود میں رہ کر کرنے ہیں۔

’’جیسے جیسے یہ عمل آگے بڑھ رہا ہے یہ حدود خود با خود واضح ہوتی جا رہی ہیں۔ لیکن یہ نہایت اہم ہے کہ حل کا یہ عمل آخر کار قوم میں یکسوئی لائے نا کہ تقسیم۔‘‘

فوج کے سربراہ کا اشارہ بظاہر مختلف سیاسی جماعتوں اور رائے عامہ سے متعلق مختلف شخصیات کے درمیان مجوزہ مذاکراتی عمل اور اس میں پیش رفت کے سلسلے میں جاری بحث کی طرف تھا۔ جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ اگر اس عمل کے ذریعے حل کی صورت نکلتی ہے تو ’’فوج کو سب سے زیادہ خوشی ہو گی‘‘۔

تاہم اُنھوں نے قوت کے استعمال کو ’’آخری حربہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس کی ضرورت پڑتی ہے تو فوج اس کے ’’موثر استعمال کی بھرپور صلاحیت‘‘ رکھتی ہے۔

’’فوج کے ذہنوں میں دونوں صورتوں میں اپنے کردار کو سمجھنے اور اس کو بروئے کار لانے کے متعلق کوئی ابہام یا غلط فہمی نہیں۔‘‘

بعض ناقدین کا ماننا ہے کہ مرکز میں مسلم لیگ (ن) جب کہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف کی حکومتیں مذاکراتی عمل سے متعلق نذبذب کا شکار ہیں، جب کہ دوسری جانب طالبان شدت پسندوں کی طرف سے بھی اس سلسلے میں کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا ہے۔

وزیرِ اعطم نواز شریف نے رواں ہفتے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ حکومت مذاکرات کے عمل میں ’’خلوص نیت‘‘ سے آگے بڑھنے کا عزم رکھتی ہے کیوں کہ اُن کے بقول ’’اس سے بہتر کوئی راستہ نہیں‘‘۔

تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے اپنے حالیہ بیان میں یہ تاثر دیا کہ حکومت کی جانب سے مذکرات کے سلسلے میں تاحال اُن کی تنظیم سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

طالبان کمانڈر نے مذاکرات کے عمل کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مبینہ امریکی ڈرون حملوں کی بندش سے بھی مشروط کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں