.

میڈیا اردو کو عام فہم بنانے میں اپنا کردار ادا کرے: مقررین

انٹرنیٹ کے ذریعے اردو کا تحفظ کرنے کی ضرورت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر سے آئے ہوئے ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور محققین نے خبردار کیا ہے کہ اردو زبان کو انٹرنیٹ اور ٹکنالوجی کے ذریعے فروغ دینے کی کوشش نہ کی گئی تو یہ آئندہ پچاس برسوں میں ختم ہو جائے گی۔ جدید ٹکنالوجی کے ذریعے اپنی زبان کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ پر زور دیا ہے کہ وہ اردو کو عام فہم زبان بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ملک میں اردو سمیت دیگر زبانوں کے فروغ کی خاطر لسانیات کے حوالے سے الگ ادارہ قائم کیا جائے۔ اردو کا مستقبل روشن ہے اور اس کے رسم الخط میں کسی تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار لاہور میں منعقد ہونے والی دوسری دو روزہ عالمی اردو کانفرنس میں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے دانشوروں نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ برطانیہ، ترکی ، چین ، روس بھارت اور بنگلہ دیش سے آئے مہمان شریک ہیں۔ پہلے روز تین سیشن ہوئے جس میں اردو زبان ، اس کے مسائل اور حل کے حوالے سے اہم ترین موضوعات پر مقالے پیش کیے گئے۔

میزبان اخبار 'ایکسپریس' کے میگزین ایڈیٹر احفاظ الرحمٰن نے معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب پڑھنے کی رفتار بہت کم ہو گئی ہے۔ بیشتر مواقع پر لکھنے والے کو خود اپنے اخراجات پر کتاب شائع کرنا پڑتی ہے۔ ان حالات میں اردو زبان کا مستقبل ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا برطانوی محقق اور اردو زبان کے معروف استاد ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز کو اس کانفرنس میں شرکت کیلئے ویزے کے حصول کیلئے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے دفتر کا سات مرتبہ چکر لگانا پڑا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کی اس معاملے میں کتنی دلچسپی ہے۔

اردو رسم الخط کے مسائل

"اردو رسم الخط کے مسائل" کے موضوع پر پہلے سیشن کی صدارت ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز نے کی اور اس سے ڈاکٹر تاش مرزا ، ڈاکٹر عطش درانی ، ڈاکٹر خلیل توقار اور ڈاکٹر محمود الاسلام نے خطاب کیا جبکہ ڈاکٹر محمد کامران نے نظامت کی۔ ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز نے کہا کہ اردو رسم الخط خوبصورت اور نستعلیق رسم الخط ہے جسے محفوظ رہنا چاہیے ۔ پاکستان اور بھارت میں اردو کا مستقبل روشن ہے ۔ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر تاش مرزا نے کہا پاکستان میں لسانیات کے حوالے سے ایک الگ سے انسٹیٹیوٹ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کوئی بڑا ادارہ ہی اردو زبان کی ترقی اور بقا کیلئے کام کرسکتا ہے۔ عطش درانی نے کہا کہ اردو زبان و ادب اگلے پچاس برس کیلئے ہے اس کے بعد کچھ نہیں ہوگا جب حرف ہی نہیں ہوگا تو زبان کیا ہوگی، اس لیے اسے محض ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی بچایا جا سکے گا۔ ہم غلام ذہنیت رکھنے والے لوگ ہیں ہم ایس ایم ایس بھی اردو رسم الخط میں نہیں بھیج سکتے۔ پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں اردو زبان کا کوئی شبہ نہیں سب اردو ادب کے شعبے ہیں۔ ڈاکٹر خلیل توقار نے کہا کہ رسم الخط اور زبان کا آپس میں گہرا رشتہ ہے جسے توڑنے سے بہت نقصان ہوسکتا ہے۔ اردو رسم الخط میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ محمود الاسلام نے کہا کہ زبان اگر روح تو رسم الخط جسم ہے اس لیے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستانی زبانوں سے اردو کی ہم آہنگی

"دیگر پاکستانی زبانوں سے اردو کی ہم آہنگی" کے موضوع پر سیشن کی صدارت عبداللہ حسین نے ک۔ مقررین میں ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا، ڈاکٹر نجیب جمال اور ڈاکٹرنجیبہ عارف شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اردو زبان کا نفاذ نہیں کر سکتے تو کم ازکم اس کا نفوذ ضرور کیا جائے ، اردو زبان کیلئے حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا ہم نے اردو میں پڑھا، اردو میں لکھا ، اردو میں سوچا اور اردو میں محبت کی اور اردو سے محبت کی۔ اگر اردو نہ ہوتی تو ہم کس طرح ایک دوسرے سے بات کرتے۔ اردو ہماری کامیابی کی ضمانت ہے انگریزی کلچر آنے کے باوجود ہمارے بچے اردو بولتے ہیں تاہم اس کا لہجہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔

نجیب جمال نے کہا کہ اردو کو پاکستان میں مادری زبان کے طور پر بولنے والے چند کروڑ ہیں لیکن یہ پورے جنوبی ایشیاء کی زبان ہے۔ اردو زبان نے ساری زبانوں میں حصہ ڈالا ہے جتنی بھی مخلوط زبانیں ہیں ، ان میں اردو کے الفاظ موجود ہیں۔ سکولوں میں اردو کو رائج کریں اور لازمی قرار دیں۔ ڈاکٹر انوار احمد نے کہا اردو کی وجہ سے پاکستانی قوم میں محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے۔ ایک انگریزی نیوز چینل نے خود کو اردو میں تبدیل کیا کیونکہ عوام اردو کو پسند کرتے ہیں لیکن پالیسی سازوں کی آنکھیں نہیں کھلیں۔ خواجہ محمد ذکریا نے کہا کہ ہر علاقے میں علاقائی زبان اور قومی زبان دونوں کو پڑھایا جانا چاہیے ۔ یہ ایک مشکل کام ہے تاہم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اس سے بہتری ہوی۔

پاکستان میں اب اردو کا نیا لہجہ بنتا جا رہا ہے اور یہ مقامی زبانوں کے اشتراک سے بن رہا ہے انگریزی ان زبانوں پر بہت اثر ڈال رہے ہی، اردو کی گنتی غائب ہوتی جا رہی ہے کیونکہ یہ مشکل ہے۔ عبداللہ حسین نے کہا کہ ہماری پانچ بڑی زبانیں ہیں، جب میں نے اپنی پہلی کتاب لکھی تو لوگوں نے مجھے کہا کہ اس کو کتاب لکھنے سے پہلے اپنی اردو ٹھیک کرنی چاہیے۔ ہمیں اردو زبان کیلئے بہت کچھ کرنا ہے اس طرح کی کانفرنسوں کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اس حوالے سے کام کرنا ہوگا۔ تیسرے سیشن کا موضوع "عام فہم زبان (میڈیا اور اردو)"تھا جسکی صدارت ڈاکٹر شمیم حنفی نے کی۔ مقررین میں اشفاق حسین ، ڈاکٹر تانگ منگ شنگ ، ڈاکٹرشاہ محمد مری اور پروفیسر سحر انصاری شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ادو کو عام فہم بنانے کی ذمہ داری مڈیا پر عائد ہوتی ہے، میڈیا کو آسان فہم زبان استعمال کرنی چاہیے۔ پروفیسر ڈاکٹر شمیم حنفی نے کہا کہ کسی بھی منافق معاشرے میں پہلا حملہ زبان پر ہوتا ہے۔ جارج آرول کے مطابق زبان اس وقت خراب ہوتی ہے جب وہ اظہار کے ذریعے کے بجائے اخفاء کا ذریعہ بن جائے۔ اردو 19 ویں صدی میں بگڑنی شروع ہوئی۔ اصلاح کے نام پر ہم نے زبان کو بگاڑا ہے۔ متروکات کے نام پر ہم نے کتنے اچھے اچھے لفظ کھو دیے۔ انقلاب کا لفظ سننے پر دل کی دھڑکن تیز ہوجا کرتی تھی لیکن اب اسکی جگہ 'ریوولیوشن 'کا لفظ استعمال ہو رہا ہے۔ اردو کی رگوں میں پنجابی کا خون دوڑانے کی ضرورت ہے۔ اردو میں ہم پرتگیزی اور اطالوی زبانوں کے الفاظ تو بڑے فخر سے استعمال کرتے ہیں لیکن اگر کوئی پنجابی کا لفظ استعمال کرتا تو لوگوں کے ماتھے پر غصے سے بل پڑ جاتے۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں زبان و ادب کی دشمن

گلوبلائزیشن کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیاں حاوی ہو رہی ہیں ۔ زبان ، تعلیم اور ادب کی سب سے بڑی دشمن سائنس ہے۔ اشفاق حسین نے کہا کہ کسی بھی بات کا آسانی کے ساتھ پہنچا دینا سلیس زبان کی پہلی شرط ہے۔ اردو کی پچھلی پیڑیوں کیلئے جو الفاظ اور محاورے آسان تھے ممکن ہے نئی نسل کو ان محاوروں کو سمجھنے کیلئے زیادہ آسانیاں نہ ہوں۔ ذرائع ابلاغ کی بجائے آج بھی لفظ میڈیا استعمال کیا گیا ہے تو کیا ہم اپنی صحافتی لغت سے ذرائع ابلاغ کا لفظ یکسر نکال دیں۔ آسان سے آسان لفظ بھی ایک عرصے تک بولا نہ جائے تو وہی لفظ اگلی نسل کیلئے سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر تانگ منگ شنگ نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ چین میں اردو کو کس طرح پڑھانا ہے۔ پاکستان میں آ کر جب ہم اردو بولتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ آب کتابی اردو بول رہے ہیں ۔ ایک پاکستان ایمبیسڈر نے مجھے کہا کہ اردو بولنے میں مجھے شرم آتی ہے۔ میں نے ایک کتاب کا اردو ترجمہ کیا ہے جسے پاکستانی دوست پھینک دیتے ہیں اور مجھ سے انگریزی کتاب لے لیتے ہیں۔ اقتصادی مسئلہ حل ہونے سے زبان کا مسئلہ خودبخود حل ہوجائیگا۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے کہا زبانیں اگر خالص ہونے لگیں تو تہذیبوں کی موت کو کوئی شیکسپیئر بھی روک نہیں سکے گا۔

پنجابی ، شینہ ، بلوچی علاقائی زبانیں نہیں بلکہ قومی زبانیں ہیں انہیں علاقائی زبانیں نہیں کہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زبان کو سہل صرف جون جولائی میں کپاس چنتی سندھی ہی گا کر سہل بنا سکتی ہے۔ اردو کو سرکاری زبان کہیں یا نہ کہیں یہ اقدار کی زبان ہے۔ اردو کو عام فہم ہونا بھی نہیں چاہیے ۔ ایک خدا، ایک رسول اور ایک قرآن تو ٹھیک ہے لیکن ایک زبان والا فلسفہ ہی غلط ہے۔ عربی ، عبرانی سمیت دنیا میں کسی زبان کو کسی مذہب سے جوڑا نہیں جا سکتا۔

اردو کے ساتھ ایک اور مسئلہ رہا کہ مڈل کلاس کی زبان رہی جو سارے کے سارے قدامتی بن کر رہ گئی ہیں۔ بہت کم بلوچوں نے اپنے خیالات کے اظہار کیلے اردو کو ذریعہ بنایا ۔ پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو ثقافتی صنعت بھی کہا گیا ہے۔ معاشرے سے جب کوئی تعلق ہوتا ہے تو سماجی اقدار اور ادارے ہوتے ہیں جو کچھ اخلاقی پیمانے بناتے ہیں جس سے کہا جاتا ہے کہ ہماری آزادی پر قدغن لگ رہی ہے۔ زبان کا معیار ایک جیسا نہیں ہوتا اور ایک رخ بھی نہیں ہے اسی طرح زبان کوئی ایک شخص یا گروہ نہیں بناتا۔ اہل زبان کا تصور بھی غلط ہے ۔ اردو میں جو لفظ بھی جس طرح بھی شامل ہوگیا وہ اردو کا ہے۔ جو لفظ رواج پا گئی انہیں ختم نہیں کرنا چاہیے جیسے ادائی کی جگہ ادائیگی چل رہا ہے۔ استصواب رائے کی جگہ ریفرنڈم کا لفظ ہی اردو میں آ گیا تو بہتر ہے اسکے خلاف نہیں بولنا چاہیے۔

محفل موسیقی

کانفرنس کے بھاری بھرکم ایجنڈے سے پیدا ہونے والی ذہنی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے بین الاقوامی شہرت یافتہ ستار نواز استاد رئیس خان نے ستار پر پرفارم کیا اور خوب داد سمیٹی۔ استاد رئیس خاں کے ہمراہ انکے صاحبزادے فرحان اور طلبہ پر استاد جھاری خاں نے سنگت کی جبکہ استاد رئیس خاں کی شریک حیات اور ماضی کی معروف گلوکارہ بلقیس خانم بھی پروگرام میں شرکت کیلئے خاص طور پر کراچی سے پہنچیں تھیں۔ تقریب میں فنکاروں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔