اوباما ۔ نواز ملاقات: پاکستان کا امریکا سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ

امریکی صدر نے پاکستان کو اپنا اہم 'اسٹرٹیجک حلیف قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے بدھ کی شب امریکی صدر باراک اوباما سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھایا تاہم اوباما نے ڈرون حملوں کے بارے میں میڈیا سے کچھ نہیں کہا۔ نواز شریف نے کہا کہ ملاقات میں عافیہ صدیقی کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور امریکی صدر باراک اوباما کی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا اور اس ضمن میں تعاون کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

امریکا اور پاکستان کے تعلقات مئی دو ہزار گیارہ سے خراب ہیں۔ دو مئی سن دو ہزار گیارہ کو امریکی اسپیشل فورسز نے ایک خفیہ اور یک طرفہ کارروائی میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔

نواز شریف نے صدر اوباما سے ملاقات کے بعد ان کے ہمراہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خاص طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے عسکریت پسندوں کے خلاف امریکی ڈرون حملوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر اوباما سے اس بارے میں بات کی ہے اور یہ کہ ان حملوں کو بند ہونا چاہیے۔ امریکی صدر نے اپنی تقریر میں ڈرون حملوں کا ذکر نہیں کیا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں امریکی ڈرون حملے عوامی سطح پر غیر مقبول ہیں۔ پاکستانی حکومت انہیں ملک کی خود مختاری کے خلاف قرار دیتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے شکیل آفریدی، سرحد پار حملوں، جماعت الدعویٰ اور ممبئی حملوں کے مبینہ ذمہ داروں کو سزا دینے سے متعلق معاملات اٹھائے گئے۔ اُن کے بقول، ہمیں اپنے گھر کو درست کرنا ہوگا۔ ’اگر، میڈیا، سول سوسائٹی اور قوم ساتھ دے تو ہم پاکستان کو مضبوط تر کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے۔‘

صدر اوباما نے پاکستان کو ’اہم سٹریٹجک حلیف‘ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے اس ملاقات کے بڑے حصے میں معیشت اور اقتصادیات پر بات کی کہ کیسے امریکہ پاکستان کی توانائی اور دوسرے شعبوں میں مدد کر سکتا ہے۔ مسٹر اوباما نے کہا کہ ان کی حکومت اس بات کا جائزہ لے گی کہ کیسے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تجارت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان متنازعہ امور پر بھی بات چیت ہوئی۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور اوباما کی رو بہ رو ملاقات بذات خود ایک مثبت بات ہے۔ ایسے اشارے مل چکے ہیں کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے بارے میں صدر اوباما نے کہا ہے پاکستان کے ساتھ تعلقات آسان نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ ایک چیلنج ہے۔ یہ آسان نہیں ہے۔ ہم مل کر کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور ہم اس عزم کو تنازعات کا سبب بننے کے بجائے ایک طاقت ور تعلق میں تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

نواز شریف اور اوباما کے درمیان بات چیت میں افغانستان سے اگلے برس نیٹو کی افواج کا انخلاء اور خطے کی صورت حال اہم موضوعات تھے۔

پاکستان اور امریکا کے تعلقات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا امریکا میں بہت عمدہ استقبال ہوا ہے۔ اس دورے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شریف کو عشائیے پر اور نائب صدر جو بائیڈن نے انہیں اپنے گھر پر ناشتے پر مدعو کیا تھا۔ شریف کی اہلیہ کو امریکی خاتون اوّل مشیل اوباما اور بائیڈن کی اہلیہ جِل یائڈن نے خصوصی طور پر چائے پر مدعو کیا تھا۔

درایں اثنا امریکہ نے پاکستان کے لیے ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی مالی امداد جاری کر دی ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کی ایک خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ اس مالی امداد کا ایک بڑا حصہ یعنی 1.4ارب ڈالر عسکری امداد کے لیے ہوں گے جبکہ باقی ماندہ رقم سویلین منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ محکمہ خارجہ کے مطابق یہ وہ مالی امداد ہے، جس کی بار ے میں گزشتہ مالی بجٹ میں فیصلہ کر لیا گیا تھا

امریکہ کے چار روزہ دورے کے آخری دن، اس سے قبل جب وزیرِاعظم پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی دوپہر دو بجے اپنے وفد کے ہمراہ وائٹ ہاؤس پہنچے تو صدر اوباما نے ان کا خیر مقدم کیا۔

وائٹ ہاؤس پہنچنے پر، امریکی فوج کے دستے نے پاکستانی وزیر اعظم کو 'گارڈ آف آنر' پیش کیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا آغاز ہوا۔ رواں سال جون میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد نواز شریف کی صدر براک اوباما سے یہ پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔

وزیرِاعظم پاکستان صدر اوباما کی دعوت پر 20 اکتوبر کو چار روزہ دورے پر امریکہ پہنچے تھے جس کے دوران میں ان کی امریکی کابینہ کے کئی اہم وزرا، ارکانِ کانگریس اور امریکی کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں