ڈرون حملے پاکستان کی مرضی سے ہوتے ہیں: سی آئی اے دستاویزات

سی آئی اے اپنی دستاویزات پاکستان کے ساتھ شئیر کرتی رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں پر امریکا اور پاکستان کی اعلی ترین سطحوں ہونے والی بات چیت تو کوئی ایسی چشم کشا نہیں رہی البتہ اس موقع پر انسانی حقوق سے متعلق این جی اوز اور میڈیا خوب گرمی بازار پیدا کی ہے۔ جس سے کم از کم فوری طور پر امریکا اور پاکستان دونوں کی حکومتوں کو سبکی کا سامنا کرنا پڑاہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بعد واشنگٹن پوسٹ نے ڈرون حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں پاکستان کی مشرف حکومت اور زرداری حکومت کو بھی برابر کا ذمہ دار ثابت کر دیا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورہ امریکا کے اختتام پر واشنگٹن پوسٹ نے سی آئی اے کی دستاویزات کی مدد سے موئثر شواہد پیش کیے ہیں۔ ڈرون حملوں سے ہونے والی بے گناہوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری صرف امریکا پر عا ئد نہیں ہوتی ہے بلکہ پاکستان بھی ان ہلاکتوں میں شریک ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق انتہائِی خفیہ دستاویزات اور پاکستانی سفارتکاروں کی مرتب کردہ یادداشتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سی آئی اے کی طرف سے ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستان کیلیے خصوصی دستاویزات تیار کی جاتی ہیں۔

سی آئی اے کی تیار کردہ فائلوں سے ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستان اور امریکا کے درمیان خفیہ بندوبست یا معاہدہ موجود ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان خفیہ دستاویزات میں کم از کم 65 ڈرون حملوں کی تفصیلات موجود ہیں۔ جن پر پاکستان اور امریکا کے درمیان ان حملوں سے پہلے یا بعد میں بات چیت ہو چکی ہے، تاہم امریکی سی آئی اے نے ان دستاویزات کو'' ٹاپ سیکرِٹ'' قرار دیا ہے۔

ایک فائل جس کا 2010 سے تعلق ہے میں صاف بتایا گیا ہے یہ ڈرون حملے پاکستان کی حکومت کی درخواست پر کیے گئے تھے۔ ایک اور فائل بھی ''مشترکہ کاوش'' پر مبنی ہے جس کا واشنگٹن پوسٹ نے حوالہ دیا ہے۔

اس رپورٹ میں امریکا کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے امریکا پاکستان کے ساتھ اس معاملے کو بھی اٹھاتا رہا ہے کہ اسکے اس حساس ادارے کے انتہا پسندوں کے ساتھ رابطے ہیں۔

امریکی اخبار نے اپنی سی آئی اے کی دستاویزات کی بنیاد پر تیار کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایک مرتبہ ہیلری کلنٹن نے بھی پاکستان کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا تھا کہ ہلاک ہونے والے انتہا پسندوں کی جیبوں سے ایسا تحریری مواد اور موبائل فونز ملے ہیں جن سے ان کے آئی ایس آئی کے سات تعلقت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اس رپورٹ میں پاکستان اور سی آئی اے کی متعلقہ شخصیات نے تبصرے سے معذرت کی ہے، تاہم واضح رہے یہ رپورٹ 2011 تک کے واقعات اور ان سے متعلقہ دستاویزات پر مبنی ہے۔
۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں