.

پاکستان: دو سیاستدان بہنیں، دو حکمران جماعتیں، دو جعلی ڈگریاں

سمیرا ملک، عائلہ ملک کی جعلی ڈگریاں مسلم لیگ و تحریک انصاف برابر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کی خاتون رکن قومی اسمبلی سمیرا ملک کو جعلی ڈگری رکھنے کی بنیاد پر پارلیمنٹ کی رکنیت کیلیے نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی اعلی ترین عدالت سپریم کور ٹ نے پیر کے روز دیا ہے۔ فیصلہ دینے والے تین رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کی۔ سمیرا ملک پر الزام تھا کہ ان کی جگہ بی اے کا امتحان کسی اور نے دیا تھا۔

اس سے پہلے ان کی بہن عائلہ ملک کی ڈگری جعلی ہونے کا فیصلہ بھی آ چکا ہے۔ اس لحاظ سے سمیرا ملک اور عائلہ ملک پاکستان کی منفرد سیاسی شخصیات ہیں جو سگی بہنیں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک جیسا تعلیمی پس منظر بھی رکھتی ہیں۔

دونوں بہنوں کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ دونوں ملک کی اس وقت کی سب سے زیادہ متحارب جماعتوں کا حصہ ہیں۔ بڑی بہن سمیرا ملک میاں نواز شریف ایسے تجربہ کار سیاستدان کی جماعت مسلم لیگ کا حصہ ہیں، جو ان دنوں مرکز اور سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی حکمران ہے۔ جبکہ سمیرا ملک کی بہن عائلہ ملک تجربہ کار کھلاڑی اور ابھرتے ہوئے سیاستدان عمران خان کی تحریک انصاف میں شامل ہیں، جنہیں اپنی جماعت کا حصہ رکھنے کیلیے عمران خان نے اپنے خاندان کی شدید مخالفت بھی مول لی ہے۔

واضح رہے دونوں بہنیں اس سے پہلے جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ان کی قربت رکھنے والی مسلم لیگ [ ق ] میں شامل رہی ہیں، تاہم مسلم لیگ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد انہوں نے دوسری جماعتوں میں شمولیت پسند کر لی۔

سمیرا ملک قومی اسمبلی کے حلقہ 69 سے قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں، جبکہ ان کے مخالف امیدوار عمر اسلم نے ان کی ڈگری گزشتہ کئی برسوں سے چیلنج کر رکھی تھی۔ عدالت نے ان کی ڈگری کے جعلی ہونے کا فیصلہ دیا تو یہ ''بری خبر '' سن کر ایک شخص احاطہ عدالت میں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں این اے 69 سے سمیرا ملک کے رکن منتخب ہونے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔ نیز الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ اس فیصلے کے تناظر میں تمام ضروری اقدامات کرے۔

واضح رہے مسلم لیگ نواز عام انتخابات کے بعد اب تک اپنے کئی ارکان اسمبلی کی ڈگریاں جعلی ہونے کے باعث ان سے محروم ہو چکی ہے، جبکہ ابھی متعدد ارکان کے بارے میں فیصلے ہونے ہیں۔تاہم عمومی طور پر یہ تاثر ہے کہ پنجاب کی اہم ترین جامعہ کے وائس چانسلر مجاہد کامران نے اپنی ذہین اور بااعتماد ٹیم کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر پنجاب کی حکمران جماعت کو اس نوعیت کے کئی صدموں سے بچا رکھا ہے۔ خیال رہے یہی جامعہ پنجاب سمیرا ملک کی ڈگری کو اصلی قرار دے چکی تھی لیکن عدالت نے جعلسازی ثابت ہونے پر فیصلہ دیا ہے۔

پاکستان جہاں جنرل مشرف کے دور میں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کا رکن بننے کیلیے گریجوایشن لازمی شرط قرار دی گئی تھی۔تاہم بعد ازاں پیپلز پارٹی کے دور میں یہ شرط واپس ہو گئی لیکن جعلی ڈگری رکھنے والوں کیلیے پارلیمنٹ کے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں۔ کہ ایسے ارکان عوام کو دھوکہ دینے کے مرتکب ہوتے ہیں۔

پاکستان میں عوام اور اداروں کو مبینہ طور پر دھوکہ دے کر سینیٹ کا رکن منتخب ہونے کا قوم پرست جماعت کے اعظ٘م خان ہوتی کے خلاف مقدمہ بھی زیر سماعت چلا آرہا ، ان کی جماعت نے بھی ان کی پارٹی کی بنیادی رکنیت ختم کر دی ہے، البتہ ابھی عدالتی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ واضح رہے اعظم خان ہوتی سابق وزیر اعلی امیر حیدر ہوتی کے والد ہیں اور اپنے بیٹے کے وزیر اعلی ہوتے ہوئے ہی سینیٹ کے رکن متخب ہوئے تھے۔

پاکستان کی غیر معمولی منظم اور مبینہ طور پر مخالفین کی ٹارگیٹ کلنگ کرنے اور بھتہ خوری کے الزامات کی زد میں رہنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے بعض ارکان پارلیمنٹ کو دوہری شہریت اور بعض کو انتخابی دھاندلیوں کے باعث ان دنوں ایسی ہی عدالتی کارروائیوں کا سامنا ہے۔

لیکن واقعہ یہ کہ پاکستان کی حکمران جماعتوں میں اکا دکا استثںا کے ساتھ اکثر جماعتیں جعلی دگڑیوں کے اس حمام میں ننگی ہیں۔ اسی لیے عدالتیں بے دھڑک یہ فیصلے کر رہی ہیں۔