5 سال میں ڈرون حملوں میں صرف 67 شہری مارے گئے:پاکستان

امریکی سی آئی اے کے 317 حملوں میں دوہزار سے زیادہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستانی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران امریکی سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے 317 میزائل حملوں میں دوہزار سے زیادہ مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اس دوران ان حملوں میں صرف 67 بے گناہ شہری مارے گئے ہیں۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں بدھ کو پیش کردہ اعدادوشمار میں یہ حیرت انگیز دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ جنوری 2012ء کے بعد وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں ہوئے ڈرون حملوں میں کوئی بے گناہ شہری نہیں مارا گیا جبکہ اس عرصہ میں تین سو سے زیادہ دہشت گردوں کو ان حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان کی وزارت دفاع کی جانب سے سینیٹ میں ایک سوال کے تحریری جواب میں گذشتہ پانچ سال کے دوران ڈرون حملوں کی تعداد اور ان میں مارے گئے افراد کے حوالے سے مکمل تفصیل بیان کی گئی ہے۔تاہم اس میں ملک کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے اس دعوے کو یکسر مسترد کردیا گیا ہے کہ امریکی سی آئی اے کے ڈرون حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری مارے جارہے ہیں۔

ان سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس سال اب تک سب سے کم ڈرون حملے ہوئے ہیں اور ان کی تعداد صرف چودہ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 2010ء میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں نے قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ 115 میزائل حملے کیے تھے۔

پاکستانی حکومت اور سیاسی جماعتوں دونوں ہی کا یہ موقف رہا ہے کہ ان ڈرون حملوں کا منفی ردعمل سامنے آرہا ہے اور وہ انھیں روکنے کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں۔وزیراعظم میاں نواز شریف نے گذشتہ ہفتے امریکا کے دورے میں صدر براک اوباما سے ملاقات میں ان سے ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن امریکا نے مبینہ طور پر یہ حملے روکنے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔

دفاعی تجزیہ کار اور مصنف زاہد حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں امریکی سی آئی اے کے ڈرون حملوں میں تو شاید کمی واقع ہوجائے لیکن اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ امریکا اپنے ڈرون پروگرام کو یکسرختم کردے گا۔

ڈرون حملوں کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے اسی ماہ کے آغاز میں اپنی ایک رپورٹ میں پاکستانی حکومت کے حوالے سے بتایا تھا کہ اس نے انھیں ؁ 2004ء کے بعد ڈرون حملوں میں کم سے کم چارسو شہریوں کے مارے جانے کی تصدیق کی تھی۔

لندن میں قائم بیورو برائے تفتیشی صحافت کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں ؁ 2008ء کے بعد ڈرون حملوں میں قریباً تین سو عام شہری مارے گئے ہیں۔واشنگٹن میں قائم نیو امریکا فاؤنڈیشن نے یہ تعداد 185 بتائی ہے۔شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق یہ اعدادوشمار بالعموم میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر جاری کیے جاتے ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی پاکستان میں ڈرون حملوں سے متعلق حال ہی میں اپنی رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں تنظیم نے امریکا پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ڈرون حملوں میں عام شہریوں کو ہلاک کررہا ہے اور اس طرح وہ جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔

یادرہے کہ امریکی سی آئی اے نے ؁ 2004ء میں پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان پر ڈرون حملوں کا آغاز کیا تھا اور پہلے ڈرون حملے میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔امریکی سی آئی اے نے حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چار سو سے زیادہ ڈرون حملے کیے ہیں۔

سی آئی اے نے زیادہ تر ڈرون حملے شمالی اور جنوبی وزیرستان پر کیے ہیں۔آزاد ذرائع کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ان میں ساڑھے تین سے چار ہزار کے درمیان افراد مارے گئے ہیں۔امریکی حکام کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ میزائل حملوں میں القاعدہ کے کمانڈر یا طالبان جنگجو اور ان کے حامی مارے گئے ہیں۔

لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں امریکیوں کے اس دعوے کو مسترد کرتی چلی آرہی ہیں اور انھوں نے ان حملوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے کئی مرتبہ سوالات اٹھائے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں زیادہ تر عام شہری مارے جارہے ہیں۔ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈرون حملوں میں طالبان یا القاعدہ کے دوسرے درجے کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے حالانکہ ان سے امریکا کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔

پاکستان سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں پر امریکا سے بیسیوں مرتبہ احتجاج کرچکا ہے اور انھیں غیر قانونی اور اپنی علاقائی خود مختاری کے خلاف قراردیتا ہے لیکن پاکستان کی سول حکومتوں کے اس احتجاج کو محض دکھاوا قرار دیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کی دینی وسیاسی جماعتیں بھی ان حملوں کی شدید مخالفت کرتی رہی ہیں۔

فاٹا کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں عام شہری ،بچے ،بوڑھے ،خواتین اور نوجوان نشانہ بن رہے ہیں اور طالبان جنگجوٶں کے شُبے میں علاقے میں موجود عام لوگوں کو بلاامتیاز مارا جارہا ہے۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے اپریل 2013ء میں پہلی مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان کی حکومت نے امریکا کو ملک میں بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے میزائل حملوں کی اجازت دی تھی اور اس ضمن میں ان کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ طے پایا تھا۔تاہم انھوں نے اپنے دور اقتدار میں اس معاہدے کا کبھی ذکر نہیں کیا تھا۔البتہ وہ امریکا سے ڈالرز لینے میں پیش پیش رہے تھے۔

سابق فوجی صدر نے سی این این کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ڈرون حملوں کی چند ایک مواقع کے لیے مشروط اجازت دی گئی تھی۔اس کی ایک شرط یہ تھی ڈرون حملہ اس وقت کیا جائے گا جب ہدف بالکل الگ تھلگ ہوگا اور اس سے کوئی اور نقصان نہیں ہوگا۔اس کو انھوں نے''کولیٹرل'' نقصان کا نام دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں