.

پاکستان سے نیٹو سپلائی روٹ کو بند کریں گے: عمران خان

امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی ڈرون حملے پر شدید احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت پاکستان کے راستے افغانستان میں نیٹو افواج کی سپلائی کو روکے گی چاہئے اس اقدام کی وجہ سے انہیں خیبر پختونخوا کے صوبے میں اپنی جماعت کی حکومت سے ہی ہاتھ دھونا پڑیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے کہا کہ ان کی جماعت نے ڈرون حملوں کے معاملے پر دوبارہ اے پی سی بلانے کی تجویز دے دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نیٹو سپلائی کی بندش کیلئے قرارداد لائے گی کیونکہ امن مخالف مذاکرات شروع ہونے ہی نہیں دیتے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا امن مخالف مذاکرات شروع ہونے ہی نہیں دیتے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے حکیم اللہ محسود کو ڈرون سے قتل کیا گیا۔ اب وقت آ گیا کہ تمام جماعتیں ملک کو بچانے کے لیے متحد ہوں کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نے ملک کو نقصان پہنچایا اب ملک بچانے کی جنگ ہے۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا ان کی حکومت جاتی ہے تو جائے لیکن وہ نیٹو سپلائی نہیں گزرنے دیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا پشاور ہائیکورٹ نے نیٹو سپلائی کی بندش اور ڈرون گرانے کا حکم دیا ہے۔

عمران خان نے کہا پشاور کے شہری شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا امریکا پاکستانی میڈیا پر پیسہ خرچ کرتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ سے ملک میں آگ لگی ہوئی ہے پاکستانی فوج کو دہشت گردی کی جنگ میں پھنسا کر دشمن خوش ہو رہا ہے، ملکی حالات بدلنے کیلئے فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ پوری قوم ملک کو بچانے کیلئے متحد ہو جائے۔

درایں اثنا پاکستان نے اسلام آباد میں امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ڈرون حملوں پر امریکہ سے احتجاج کیا ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ حالیہ ڈرون حملوں کی وجہ سے ملک میں قیام امن کے لیے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کی کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔

پاکستان نے کہا ہے کہ حالیہ ڈرون حملوں کی وجہ سے ملک میں قیام امن کے لیے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کی کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔

دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ طالبان سے بات چیت کرنا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ محکمہ خارجہ کے مطابق تشدد کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے امریکہ اور پاکستان ایک اہم مشترکہ سٹریٹیجک مفاد کو جاری رکھیں گے۔