.

پاکستان کی مقبول ترین فوک گلوکارہ ریشماں انتقال کر گئیں

متعدد قومی ایوارڈ یافتہ ریشماں 'بلبل صحرا' کے نام سے مشہور تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی لیجنڈری لوک گلوکارہ ریشماں چھیاسٹھ برس کی عمر میں لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں انتقال کر گئی ہیں۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھیں اور گزشتہ برس انہی‍ں گلے کے سرطان کی تشخیص ہوئی تھی۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریشماں اتوار کی صبح لاہور میں چل بسیں۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایک ماہ سے کوما میں تھیں۔

ریشماں کی پیدائش کا سال 1947ء کے قریب بتایا جاتا ہے۔ ان کا تعلق راجستھان کے علاقے بیکانیر سے تھا۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی منتقل ہو گیا تھا۔

مرحومہ نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی عمر بارہ برس تھی جب ریڈیو کے ایک پروڈیوسر سلیم گیلانی نے شہباز قلندر کے مزار پر انہیں گاتے ہوئے سنا اور انہیں ریڈیو پر گانے کا موقع دیا۔ اس وقت انہوں نے ’لعل میری‘ گیت گایا جو بہت مشہور ہوا۔ سلیم گیلانی بعد ازاں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل بھی بنے۔

دھیرے دھیرے ریشماں پاکستان کی مقبول ترین فوک سنگر بن گیئں۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشمان نے ٹی وی کے لیے بھی گانا شروع کر دیا۔ انہوں نے پاکستانی فلموں کے لیے بھی متعدد گیت گائے۔ ان کی آواز سرحد پار بھی سنی جانے لگی۔

معروف بھارتی ہدایت کا سبھاش گھئی نے ان کی آواز اپنی ایک فلم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ریشماں ان کی فلم ’ہیرو‘ کے لیے ’لمبی جدائی‘ گایا جو آج بھی سرحد کے دونوں جانب انتہائی مقبول ہے۔ سن 1983ء کی اس فلم کو آج بھی ریشماں کے اس گانے کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے۔

ریشماں کے کچھ دیگر مقبول گیتوں میں’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک ماہیا مینوں یاد آؤندا‘، ’وے میں چوری چوری‘، ’دما دم مست قلندر‘، ’انکھیاں نوں رین دے انکھیاں دے کول کول‘ اور ’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘ شامل ہیں۔

انہیں پاکستان میں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا۔ انہیں ستارہ امیتاز اور ’لیجنڈز آف پاکستان کا اعزاز بھی دیا گیا تھا۔ ریشماں کی موت کی خبر پھیلتے ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹوں ٹوئٹر اور فیس بُک پر تعزیتی پیغامات کا تانتا بندھ گیا ہے۔ انہوں نے سوگواروں میں بیٹا عمیر اور بیٹی خدیجہ چھوڑی ہے۔