.

کمانڈرعصمت اللہ شاہین پاکستانی طالبان کے عبوری امیر مقرر

تاریخ میں کبھی کسی نے غلاموں کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے:ترجمان ٹی ٹی پی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی طالبان نے حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے دوروز بعد اپنی سپریم شوریٰ کونسل کے سربراہ عصمت اللہ شاہین بھٹانی کو عبوری دور کے لیے عارضی امیر مقرر کیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ابھی مستقل امیر کا انتخاب نہیں کیا گیا ہے اورعصمت اللہ شاہین بھٹانی کو ٹی ٹی پی کا عارضی سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستانی طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود جمعہ کو اپنے چار ساتھیوں سمیت شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔امریکا نے ان کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالرز مقرر کررکھی تھی۔

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر حکومت پاکستان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور امریکا پرطالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے لیے علماء کا ایک گروپ جانے کی تیاری کررہا تھا کہ اس دوران ڈرون حملہ کردیا گیا۔ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں طالبان سے مذاکرات کی حمایت کررہی ہیں۔

شاہداللہ شاہد نے حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے امکان کے حوالے سے کچھ کہنے سے انکار کیا ہے لیکن انھوں نے حکومت پر واشنگٹن کی چاپلوسی اور مجاہدین کی فروخت کا معاہدہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ تاریخ میں کبھی کسی نے غلاموں کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے۔

ترجمان نے کہا کہ ''ہم تو مذاکرات کے لیے ملاقات کا انتظار کررہے تھے لیکن پاکستان آرمی اور حکومت امریکا کے ساتھ بیٹھ کرہمیں فروخت کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل دے رہے تھے''۔تاہم انھوں نے حکیم اللہ محسود کا انتقام لینے کے حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا ہے اور صرف یہ کہا کہ یہ وقت ہی بتائے گا کہ ہم ان کی شہادت کا انتقام لیتے ہیں یا نہیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں ٹی ٹی پی اپنے کمانڈروں کی ہلاکت کا تباہ کن بم دھماکوں کے ذریعے انتقام لیتی رہی ہے اور اب بھی بعض تجزیہ کار جنگجوؤں کی جانب سے شدید ردعمل کے خدشے کا اظہار کررہے ہیں۔نیز اب حکومت اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے لیے کوئی سلسلہ جنبانی شروع ہونے کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔