.

سینیٹ میں اپوزیشن ارکان کا اسلام آباد کی شاہراہ پر اجلاس

پارلیمانی تاریخ کا انوکھا واقعہ ،وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان مواخذے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کے لب ولہجے پر معترض حزب اختلاف نے بدھ کو شاہراہ پر اجلاس منعقد کیا ہے جبکہ حکومتی بینچوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹروں نے چئیرمین سید نیر حسین بخاری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈیڈلاک کے خاتمے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان وزیرداخلہ کی جانب سے 30 اکتوبر کو سینیٹ میں ڈرون حملوں اور دہشت گردی کے واقعات میں مارے گئے افراد سے متعلق پیش کردہ اعدادوشمار پر احتجاج کررہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب ایوان میں وزیرداخلہ سے اس حوالے سے سوالات کیے گئے تو انھوں نے رعونت آمیز لب ولہجہ اختیار کیا تھا۔حزب اختلاف کے سینیٹروں میں اکثریت سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھتی ہے۔

اپوزیش کے ان سینیٹروں نے بدھ کو پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمان ہاؤس کے باہر شاہراہ پر اپنا اجلاس منعقد کیاجبکہ حکومتی ارکان نے سینیٹ ہال میں اپنا اجلاس منعقد کیا۔سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے چئیرمین کے پوچھنے پر بتایا کہ پانی اور بجلی کے وزیرمملکت عابد شیرعلی کی قیادت میں اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔اس نے قائد حزب اختلاف سینیٹر اعزاز احسن اور سینیٹر رضا ربانی سے ملاقات کی ہے اور امید ہے بات چیت کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

اس موقع پر نیّر بخاری نے کہا کہ اپوزیشن کی شرکت کے بغیر ایوان کی کارروائی نہیں چلائی جاسکتی ۔اس لیے دونوں دھڑے لچک کا مظاہرہ کریں لیکن اس حوالے سے حکومت پر زیادہ ذمے داری عاید ہوتی ہے۔

حکومتی سینیٹر سید ظفرعلی شاہ نے کہا کہ حزب اختلاف نے غیر آئینی طور پر پارلیمان ہاؤس کے باہر اجلاس منعقد کیا ہے۔اس لیے چئیرمین سینیٹ اس پر اپنی رولنگ دیں۔انھوں نے کہا کہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایوان بالا کے اجلاس کسی شاہراہ پر منعقد کیے گئے ہوں۔ایوان سے واک آؤٹ تو کیے جاتے رہے ہیں لیکن اس طرح پہلے کبھی نہیں ہواتھا۔

درایں اثناء وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا ہے۔انھوں نے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کا جائزہ لینے کے لیے اپوزیشن کے ارکان پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ایوان بالا کے 30 اکتوبر کے اجلاس کی ویڈیو جاری کرنے کے لیے بھی تیار ہیں جس سے ان کی بدن بولی کا بخوبی اندازہ ہوسکے گا کہ انھوں نے وہاں کیا لب ولہجہ اختیار کیا تھاجس پر اپوزیشن کے سینیٹر سراپا احتجاج بنےہوئے ہیں اور ایوان کی کی کارروائی کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کو جان بوجھ کر انا کا مسئلہ بنا لیا گیا ہے۔انھوں نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ انھوں نے صوبائی حکومتوں سے بھی دہشت گردی کے واقعات میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار دوبارہ چیک کیے تھے اور یہ ان کے بیان کردہ اعدادوشمار کے مطابق ہی تھے۔