.

پرویز مشرف کی عبدالرشید غازی قتل کیس میں ضمانت پر رہائی کا حکم

ایک، ایک لاکھ کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرا دیے، نام بدستور ECL میں رہے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے اسلام آباد کی لال مسجد کے مقتول نائب خطیب غازی عبدالرشید کے قتل کیس میں ضمانت کے دو روز بعد ایک، ایک لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرا دیے ہیں جس کے بعد عدالت نے انھیں رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج واجد علی نے سابق صدر کی سوموار کو ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے ایک ایک لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض پیش کردہ درخواست منظور کر لی تھی اور آج بدھ کو ان کی رہائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

سابق صدر کے وکیل الیاس صدیقی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مؤکل اب آزاد ہیں اور انھیں ان کے خلاف دائرکردہ چاروں کیسوں میں ضمانت مل چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اب اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیے جانے کے خلاف عدالت عالیہ سندھ سے رجوع کریں گے۔ ان کا نام وزارت داخلہ کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے۔ اس لیے وہ حکومت کی اجازت کے بغیر پاکستان سے باہر نہیں جاسکتے۔

لیکن پرویز مشرف عدالتوں سے ضمانت پر رہائی کے باوجود اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں واقع اپنے پرتعیش فارم ہاؤس میں ہی کڑے پہرے میں رہیں گے۔وہ اپریل سے اپنے گھر میں زیرحراست ہیں اور حکام نے ان کے گھر کو سب جیل قرار دے دیا تھا۔وہ مبینہ طور پر اس سب جیل میں بھی پرتعیش زندگی گزا ر رہے ہیں اور انھیں ذاتی باورچی سمیت زندگی کی تمام سہولتیں حاصل ہیں۔

واضح رہے کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو مولانا عبدالرشید غازی اور ان کی والدہ صاحب خاتون کے قتل کیس میں گذشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا۔دونوں ماں بیٹا جولائی 2007ء میں مسلح افواج کے لال مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسے جامعہ حفصہ میں آپریشن کے دوران دیگر بیسیوں افراد کے ساتھ مارے گئے تھے۔

ان کے خلاف غازی عبدالرشید مقتول کے بیٹے ہارون الرشید نے اسلام آباد کے تھانہ آب پارہ میں مقدمہ درج کرایا تھا۔ اس سے پہلے ان کے خلاف 1999ء سے 2008ء تک دورحکمرانی میں بلوچ رہ نما اکبر بگٹی کے قتل، سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل اور ججوں کی نظر بندی کے الزام میں الگ الگ کیس چلائے جا رہے تھے لیکن ان تینوں مقدمات میں عدالتوں سے ان کی ضمانتیں منظور ہوچکی تھیں۔