.

ملاّ فضل اللہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے نئے امیر منتخب

طالبان کی سپریم شوریٰ کونسل نے شیخ خالد حقانی کو تحریک کا نائب امیر بنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) کی سپریم شوریٰ کونسل نے وادیٔ سوات سے تعلق رکھنے والے سخت گیر کمانڈر ملاّ فضل اللہ کو اپنا نیا امیر منتخب کر لیا ہے۔

ٹی ٹی پی کے قائم مقام امیر کمانڈر عصمت اللہ شاہین نے جمعرات کو شمال مغربی علاقے میں کسی نامعلوم مقام پر نیوزکانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ فضل اللہ کو نیا امیر بنانے کا فیصلہ سپریم شوریٰ کونسل کے ایک اجلاس میں کیا گیا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ سپریم شوریٰ نے شیخ خالد حقانی کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا نائب سربراہ منتخب کیا ہے۔

ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے بھی کسی نامعلوم مقام سے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس اعلان کی تصدیق کی ہے۔ملاّ فضل اللہ کے پاکستانی طالبان کا امیر بننے کے بعد حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی تمام امیدیں بھی موہوم ہوگئی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ ''اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے کیونکہ ملاّ فضل اللہ تو پہلے ہی پاکستانی حکومت سے مذاکرات کے خلاف ہیں''۔

شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں نئے امیر کے انتخاب کے بعد خوشی میں شدید فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔واضح رہے کہ ملاّ فضل اللہ کی قیادت میں طالبان نے پاکستان کی شمال مغربی وادیٔ سوات میں ؁ 2007ء سے ؁ 2009ء تک اپنی حکومت قائم کر لی تھی اور وہاں اندھیر نگری مچائے رکھی تھی۔پاکستانی فوج نے ایک بڑے فوجی آپریشن کے بعد اس علاقے سے ان کا صفایا کیا تھا اور علاقے کا کنٹرول واپس لیا تھا۔

ملاّ فضل اللہ ملاّ ریڈیو کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔انھوں نے سوات میں اپنا ایف ایم ریڈیو چینل قائم کررکھا تھا اور وہ اس کے ذریعے خطبات اور احکامات نشر کیا کرتے تھے۔وہ سوات میں فوجی کارروائی کے دوران فرار ہوکر پڑوسی ملک افغانستان چلے گئے تھے۔اس وقت ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے صوبہ نورستان میں رہ رہے ہیں اور وہیں سے اپنے تحت طالبان جنگجوؤں کو ہدایات جاری کرتے ہیں۔

پاکستانی طالبان کے پہلے امیر حکیم اللہ محسود گذشتہ جمعہ کو اپنے چار ساتھیوں سمیت شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔امریکا نے ان کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالرز مقرر کررکھی تھی۔

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر حکومت پاکستان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور امریکا پرطالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔وزیراعظم میاں نواز شریف کی قیادت میں حکومت شمال مغربی علاقوں میں برسر پیکار طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قیام امن کی حامی ہے اور وہ فی الوقت وہ ان کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت کررہی ہے۔

وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے لیے علماء کا ایک گروپ ہفتے کے روز جانے کی تیاری کررہا تھا کہ اس دوران ڈرون حملہ کردیا گیا۔ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں طالبان سے مذاکرات کی حمایت کررہی ہیں لیکن نئی صورت حال میں حکومت اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے لیے کوئی سلسلہ جنبانی شروع ہونے کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔