جلیل عباس جیلانی امریکا میں پاکستان کے نئے سفیر مقرر

سابق سیکرٹری خارجہ دسمبر میں واشنگٹن میں اپنا عہدہ سنبھالیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان نے سینیّر سفارت کار اور سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کو امریکا میں اپنا نیا سفیر مقرر کردیا ہے۔

اسلام آباد میں وزارت خارجہ کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ اٹھاون سالہ سفیر جلیل عباس جیلانی دسمبر میں واشنگٹن میں اپنی نئی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔

وہ ایک کیرئیر ڈپلومیٹ ہیں اور اس نئے تقرر سے پہلے بیلجیئم ،لکسمبرگ اور یورپی یونین میں پاکستانی سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔برسلز میں تعیناتی کے دوران وہ نیٹو کے ہیڈ کوارٹرز کے ساتھ بھِی مسلسل رابطے میں رہتے تھے۔

وزیراعظم میاں نوازشریف کی حکومت نے گذشتہ ماہ انھیں واشنگٹن میں سفیر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن سفارتی روایت کے مطابق میزبان ملک کی رضامندی سے قبل سرکاری طور پر ان کے تقرر کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

ان کی پیش رو پاکستانی سفیرشیری رحمان نے 11مئی کو منعقدہ عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کی عبرت ناک شکست کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔جلیل عباس جیلانی کا واشنگٹن میں بطور سفیر ایسے وقت میں تقرر کیا گیا ہے جب پاکستان کا امریکا کے ساتھ بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے وفاق کے زیرانتظام شمال مغربی پہاڑی علاقوں پرمیزائل حملوں پرتنازعہ چل رہا ہے۔

پاکستان ان ڈرون حملوں کو بند کرنے کا مطالبہ کررہا ہے جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ حملے بند نہیں کیے جا سکتے۔گذشتہ جمعہ کو امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیرحکیم اللہ محسود مارے گئے تھے۔اس واقعہ کے بعد امریکا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے ہے اوروزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان امریکا پر طالبان کے ساتھ مجوزہ امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

ٹی ٹی پی نے گذشتہ روز حکیم اللہ محسود کی جگہ ملاّ فضل اللہ کو نیا امیر مقرر کیا ہے اور ان کے انتخاب کے بعد طالبان جنگجوؤں کی حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی تمام امیدیں موہوم ہوگئی ہیں۔وہ پہلے ہی پاکستانی حکومت سے مذاکرات کے خلاف تھے۔اب انھوں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے اورمحسود کی ہلاکت کے انتقام میں پاکستان میں حملوں کی دھمکی دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں