پاکستان،سعودی عرب میں جوہری معاہدے سے متعلق رپورٹ کی تردید

اسلامی جمہوریہ کا ایک مضبوط کمان اور کنٹرول سسٹم ہے:دفتر خارجہ کی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے دفتر خارجہ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی اس رپورٹ کو بے بنیاد ،قیاس آرائی پر مبنی اور شرپسندانہ قراردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد نے سعودی عرب کو جوہری ہتھیار فروخت کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے ایک سنئیر عہدے دار نے بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ میں جمعرات کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''پاکستان ایک ذمے دار جوہری ملک ہے۔اس کا ایک مضبوط کمان اور کنٹرول سسٹم ہے اور برآمدات پر بھی ایک جامع کنٹرول ہے''۔

قبل ازیں بی بی سی نے نیٹو کے ایک عہدے دار کے حوالے سے کہا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے لیے جوہری ہتھیار تیار کیے ہیں اور اب وہ اس کو مہیا کرنے کے لیے تیار ہے۔

بی بی سی کے مطابق اسرائیل کے سابق ملٹری انٹیلی جنس چیف آموس یدلین نے بھی اس دعوے کی تائید کی تھی اور انھوں نے سویڈن میں گذشتہ ماہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''سعودی ایک ماہ کے لیے بھی انتظار نہیں کریں گے ۔انھوں نے جوہری بم کے لیے پہلے ہی رقم ادا کردی ہے۔وہ پاکستان جائیں گے اور وہاں سے انھیں جس چیز کی ضرورت ہے،وہ لے آئیں گے''۔

امریکی صدر براک اوباما کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق امور کے سابق مشیر گیری سامور نے بھی مبینہ طور پر کہا تھا کہ سعودی عرب کی ممکنہ طور پر پاکستان کے ساتھ ایک مفاہمت موجود ہے جس کے تحت وہ وقتِ ضرورت جوہری ہتھیار حاصل کرسکتا ہے۔

لندن میں سعودی سفارت خانے نے بھی بی بی سی کی رپورٹ کی تردید کی ہے اور اس پر ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ مملکت نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کررکھے ہیں اور وہ مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کے لیے ایک عرصے سے کوششیں کررہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے میں ناکامی کی وجہ سے ہی سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دوسال کے لیے غیر مستقل نشست نہیں سنبھالی اور اس کو مسترد کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں