.

امیرجماعتِ اسلامی کا بیان پاکستان کے شہداء کی توہین ہے: آئی ایس پی آر

امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے حکیم اللہ محسود کو شہید کہنے کی سخت الفاظ میں مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی علاقے وزیرستان میں گذشتہ جمعہ کو امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد ملک میں ایک نیا مذہبی اور سیاسی تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ بعض مذہبی جماعتوں کے قائدین اںھیں شہید قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض انھیں دہشت گرد اور قاتل قرار دے کر ہلاک کہہ رہے ہیں۔

پاکستان کی منظم سیاسی دینی جماعت کے امیر سید امیر حسن ان لیڈروں میں سے ہیں جنھوں نے حکیم اللہ محسود کو شہید قراردیا ہے اور ٹی ٹی پی کے ترجمان نے ان کے اس بیان کو سراہا ہے لیکن پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں امیر جماعت کے حکیم اللہ محسود کو شہید کہنے کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سید منورحسن کا بیان غیر ذمے دارانہ ہے اور صرف سیاسی فائدے کے لیے داغا گیا ہے۔ یہ بیان (دہشت گردی کے واقعات میں) مارے گئے ہزاروں پاکستانی شہریوں اور فوجیوں کی توہین ہے۔

''سید منور حسن کی جانب سے ہلاک دہشت گردوں کو شہید قراردیا جانا انتہائی قابل مذمت ہے۔ان کے خیالات کی بڑی اکثریت نے مذمت کی ہے جس سے کسی کے ذہن میں یہ شک نہیں رہا کہ ہم سب اس معاملے میں بہت واضح ہیں۔وہ یہ کہ ریاست پاکستان کیا ہے اور اس کے دشمن کون لوگ ہیں''، بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر سید منورحسن کے حالیہ بیانات کی مذمت تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اس نے دو قدم آگے جا کر ان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔بیان کے مطابق ''پاکستان کے عوام ،جن کے پیارے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اپنی زندگیاں گنوا بیٹھَے اور مسلح افواج کے شہداء کے خاندان سید منورحسن سے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر غیر مشروط معافی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ جماعت اسلامی از خود اس معاملے میں اپنا مؤقف واضح کرے گی''۔