.

حقانی نیٹ ورک کے سینیر رہ نما کا پُراسرار قتل،میران شاہ میں تدفین

واقعہ سے متعلق متضاد اطلاعات،اسلام آباد کےعلاقے بھارہ کہو میں مارے جانے کی خبر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے بزرگ جنگجو کمانڈر جلال الدین حقانی کے صاحبزادے اور امریکا کی قیادت میں نیٹو فوج سے برسرپیکار حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کے بھائی نصیرالدین حقانی پراسرار طور پر قتل ہوگئے ہیں۔

مقتول کے قتل کی جگہ کے بارے میں تادم تحریر متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔پاکستان کے انٹیلی جنس حکام کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے سینیر رہ نما کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے بھارہ کہو میں گولی ماری گئی ہے۔

تاہم اس کی سرکاری طور پر پولیس یا حکومت پاکستان کی جانب سے کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔بعض انٹیلی جنس عہدے داروں نے دعویٰ کیا ہے کہ نصیرالدین حقانی پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع افغانستان کے علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران مارے گئے ہیں۔

ان کی میت سوموار کو شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں تدفین کے لیے لائی گئی ہے۔افغان طالبان کے ایک سینیر کمانڈر نے ان کی موت کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ ان کی نمازجنازہ سہ پہر ساڑھے تین بجے مدرسہ حقانیہ میران شاہ میں ادا کی گئی تھی۔

تاہم طالبان کمانڈر نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے کہ نصیرالدین حقانی کو کہاں قتل کیا گیا ہے البتہ یہ بتایا ہے کہ ان کی نمازجناہ میں طالبان مزاحمت کاروں کے متعدد اعلیٰ کمانڈروں نے شرکت کی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور مغربی میڈیا نے بزرگ افغان کمانڈر مولانا جلال الدین حقانی کے پیروکاروں اوران سے وابستہ جنگجو گروپ کو حقانی نیٹ ورک کا نام دے رکھاہے۔اس گروپ کے افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں اور القاعدہ سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔امریکا جنگ زدہ افغانستان میں اپنی فورسز کے خلاف برسرپیکار اس گروپ کو سب سے خطرناک قرار دیتا ہے۔

نصیرالدین حقانی کی عمر 36 سال تھی اور وہ مولانا حقانی کے متعدد بیٹوں میں سے ایک تھے۔وہ حقانی نیٹ ورک کے مالی امور کے ذمے دار تھے۔انھیں امریکا نے 2010ء میں دہشت گرد قراردے دیا تھا۔امریکا نے حقانی نیٹ ورک کو حالیہ برسوں کے دوران اپنے فوجیوں پر بڑے اور تباہ کن حملوں کا ذمے دار قراردیا ہے۔ان میں 2010 ء میں کابل میں امریکی سفارت خانے کا محاصرہ اور 2009ء میں مشرقی افغانتسان میں سی آئی اے کے مبینہ اڈے پر خودکش حملہ شامل تھا جس میں آٹھ انٹیلی جنس عہدے دار مارے گئے تھے اور اس کو سی آئی اے پر 25 سال کے بعد بڑا حملہ حملہ قراردیا گیا تھا۔