.

پاکستان: جماعت اسلامی نے فوج کا احتجاج مسترد کر دیا

سیاست میں مداخلت قبول نہیں۔ حکومت سے فوجی مداخلت پر بات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جماعت اسلامی پاکستان نے اپنے امیر سید منور حسن کے بارے میں فوجی ترجمان کے بیان کو سیاسی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کو سیاسی امور میں مداخلت کا حق نہیں۔

جماعت اسلامی نے فوجی بیان کا اپنے ایک اعلی سطح کے اجلاس میں امیر جماعت کی زیر صدارت میں جائزہ لیا اور بعد ازاں جماعت کے سیکرٹری جنرل نے منصورہ لاہور میں اس بارے میں تحریری بیان پرھ کر سنایا۔

فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت پر حکومت سے بھی رابطہ کیا جائے گا، لیاقت بلوچ نے کہا فوج نے سیاسی پریس ریلیز جاری کیا ہے جس میں جماعت سے استفسارات کیے گئے ہیں ان کا فوج کو حق حاصل نہیں ہے۔

جماعت اسلامی کی طرف سے سامنے لائے گئے موقف میں دوٹوک انداز میں فوجی سیاست میں مداخلت کے جواز کو چیلنج کیا ہے اور کہا گیا ہے جماعت اسلامی نے ہمیشہ سکیورٹی افسران کی قربانیوں کو سراہا ہے۔

اس امر پر حیرت کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ فوجی ترجمان نے اس بارے میں سارے ریکارڈ کو نظر انداز کیسے کر دیا؟

جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا اس وقت مطالبہ تو نیٹو سپلائی کی بندش اور ڈرون حملوں کی بندش کا چل رہا ہے لیکن یہ ضمنی اور غیر ضروری بحث شروع کر دی گئی ہے۔ جماعت نے اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کو امریکی جنگ سے جلد از جلد نکل آنا چاہیے۔ لیاقت بلوچ کے الفاظ میں اب وقت آ گیا ہے کہ ایک فوجی آمر نے جو پالیسی اپنائی تھی اس سے نکلا جائے۔

جماعت اسلامی کیطرف سے سامنے لائے گئے موقف میں قوم کو یقین دلایا گیا ہے کہ کہ ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلیے جماعت آج بھی ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔