.

پرویز مشرف کے خلاف اب غداری کا مقدمہ چلے گا

حکومت چیف جسٹس سے تین ججوں کا ٹرائبیونل قائم کرنے کی درخواست کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومتِ پاکستان نے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف 2007ء میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدام پر آئین کی دفعہ چھے کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے اتوار کو ایک نشری نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ''سپریم کورٹ کے فیصلے اور ایک تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے رپورٹ موصول ہونے کے بعد جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین توڑنے پر کسی فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جارہا ہے اور یہ فیصلہ قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کو سوموار کو حکومت کی جانب سے ایک خط موصول ہوجائے گا جس میں ان سے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے ہائی کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل ایک ٹرائبیونل قائم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔حکومت اس مقدمے کے لیے ایک خصوصی پراسیکیوٹر کا تقرر بھی کرے گی۔

سابق فوجی صدر کے خلاف اس سے پہلے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی دسمبر 2007ء میں بم دھماکے میں ہلاکت سمیت چار فوجداری مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ان چاروں مقدمات میں ان کی ضمانت منظور ہوچکی ہے اور عدالت نے ضمانتی مچلکے جمع کروانے پر انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

انھوں نے گذشتہ ہفتے عدالت میں بیرون ملک جانے کی اجازت کے حصول کے لیے درخواست دائر کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ انھیں دبئی میں علیل والدہ کی تیمارداری کے لیے جانے کی اجازت دی جائے۔توقع ہے کہ ان کی اس درخواست پر عدالت سوموار کو کوئی حکم جاری کرے گی۔