.

راولپنڈی کے پرتشدد واقعات میں جاں بحق شہریوں کے اجتماعی جنازے

کرفیو ختم، سانحے کی تحقیقات کیلیے عدالتی کمیشن قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے جڑواں شہر راولپنڈی جہاں اہلسنت کے ایک مدرسے اور مسجد پر اہل تشیع کے حملے میں ہلاکتوں اور مدرسے سمیت شہر کی اہم مارکیٹ میں بیسیوں دکانوں کو نذر آتش کیے جانے کے باعث نافذ جمعہ کی رات سے نافذ کیا گیا کرفیو پیر کی صبح سے ختم کر دیا گیا ہے۔

تاہم اطلاعات کے مطابق پاکستان کے اس اہم فوجی شہر میں امن وامان کی ضرورت کے پیش نظر چار سے زیادہ شہریوں کے ایک ساتھ چلنے پر پابندی کے لئے دفعہ 144 کا نفاذ بدستور رہے گا اور سکیورٹی فورسز گشت کرتی رہیں گی۔

راولپنڈی جہاں کے واقعے کی خبریں انتہائی احتیاط کے ساتھ سامنے لا کر پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کی تاریخ میں پہلی بار میڈیا اور سکیورٹی اداروں نے یہ کامیابی حاصل کی ہے کہ اگر میڈیا چاہے تو ایک غیر معمولی نوعیت کے واقعے کے خطرناک ردعمل کو روک کر حالات کو مزید بگاڑ سے بچا سکتا ہے۔ وہیں اس واقعہ کے حوالے سے سینہ گزٹ کے طور راولپنڈی شہر میں بڑی خوفناک اور غیر انسانی ماحول کی کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی کسی حد تک اس واقعے کے بعض پہلو سامنے لائے گئے ہیں۔ لیکن یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ بڑے واقعات میں جہاں دہشت گردی سے زیادہ نقصان ہوتا رہا ہے وہیں ماضی میں میڈیا اور حکومت کے درمیان اس طرح کا کوآرڈینیشن نہیں رہا ہے جیسا راولپنڈی کے سانحے کے فوری بعد تشکیل پا گیا۔

پیر کی صبح سے کرفیو کے خاتمے کیلیے اتوار کو اجتماعی جنازوں کی پر امن ادائیگی کے بعد راولپنڈی کے ڈی سی او آفس میں ایک اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں حالات میں بہتری کی علامات دیکھ کرفیو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

تعلیمی اداروں کے حوالے سے ابھی تک منقسم اطلاعات ہیں، ایک اطلاع یہ ہے کہ راولپنڈی میں آج ہونے والے امتحانات منعقد نہیں ہوں گے، دوسری اطلاع میں تمام سرکاری تعلیمی اداروں کے کھلنے کی خبر تو ہے البتہ نجی تعلیمی اداروں کے آج بھی بند رہنے کا بتایا گیا ہے۔

آج تقریبا پانچ دنوں کے بعد اسلام آباد کے اس جڑواں شہر میں زندگی معمول پر آنے کا امکان پیدا ہو گیا۔ صورت حال کو تیزی سے بہتر کرنے اور مزید کسی خرابی سے بچنے کیلیے ضلعی انتظامیہ نے ٹیکسلا میں 12 محرم کے روز نکلنے والا اہل تشیعوں کا جلوس بھی روک دیا تھا۔

پاکستان کے سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں لوگوں نے حکومت کو یہ تجویز پیش کی ہے کہ آئندہ کیلیے ایسے مذہبی جلسوں اور جلوسوں کو امام بارگاہوں اور مساجد اور چار دیواری کے اندر تک محدود رکھا جائے تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

اسلام آباد کی زندگی اور معمولات پر اثرانداز ہونے والے اس شہر کے تاجروں کا اربوں روپوں کے نقصان کا ابتدائی تخمینہ سامنے آیا ہے، اس بارے میں کسی باضابطہ رپورٹ کا انتظار ہے۔

دلچسپ بات ہے کہ اتنے سنگین واقعے کے بعد ابھی تک ملزمان کی گرفتاری میں پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ شروع میں بتایا گیا تھا کہ اہل سنت کے مدرسے پر حملہ آور ہونے والوں کی ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر گرفتاریاں ممکن ہیں لیکن ابھی اس سلسلے میں کامیابی نہیں ہوئی ہے۔

صوبہ پنجاب کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک رکنی عدالتی کمیشن قائم کر دیا ہے جو آئندہ دنوں حقائق سامنے لائے گا۔