.

صوبہ خیبر پختونخوا کے دواضلاع میں کرفیو نافذ، فوج تعینات

کوہاٹ میں سانحہ راول پنڈی کے خلاف مظاہرے کے دوران جھڑپ ،4 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راول پنڈی میں جمعہ کو پیش آئے تشدد کے افسوسناک واقعہ کے ردعمل میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں احتجاجی مظاہروں اور متحارب مذہبی گروہوں کے درمیان مسلح جھڑپوں میں دوپولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ضلع کوہاٹ میں تشدد کے اس واقعے کے بعد حکام نے کرفیو نافذ کردیا ہے اور شہر میں کسی گڑ بڑ سے بچنے کے لیے فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔اس کے پڑوس میں واقع ضلع ہنگو میں بھی حکام نے کرفیو نافذ کر کے فوج کو طلب کر لیا ہے۔

کوہاٹ میں راول پنڈی میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعے کے خلاف اہل سنت والجماعت کے کارکنان احتجاجی ریلی نکال رہے تھے۔اس دوران جب وہ اہل تشیع کی ایک امام بارگاہ کے پاس پہنچے تو ان کی وہاں موجود لوگوں سے لڑائی شروع ہوگئی۔

شہر کے ایک پولیس افسر فضل نعیم خان نے بتایا ہے کہ لڑائی میں دو پولیس اہلکار اور دو شہری مارے گئے ہیں۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ مارے گئے افراد کا تعلق اہل سنت والجماعت سے تھا یا وہ عام شہری تھے۔اس کے بعدمشتعل مظاہرین نے تیراہ بازار میں متعدد دکانوں کو آگ لگادی اور توڑ پھوڑ کی۔بعض افراد نے بازار میں لوٹ مار بھی کی۔

اس واقعہ کے فوری بعد کوہاٹ میں مزید کسی ناخوشگوارواقعے سے بچنے کے لیے حکام نے کرفیو نافذ کردیا اورامن وامان برقرار رکھنے کے لیے فوج کو طلب کر لیا ہے۔تاہم شہر میں متحارب دھڑوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔پڑوسی ضلع ہنگو میں صورت حال بہتر ہونے کے چند گھنٹے کے بعد کرفیو اٹھا لیا گیا ہے۔

اس سے چندے پیشتر صوبہ پنجاب کے شہر راول پنڈی میں جمعہ کو تشدد کے واقعے کے بعد نافذ کرفیو اٹھا لیا گیا ہے۔تاہم شہر میں فوجی دستوں کا گشت جاری رہے گا اور چار سے زیادہ افراد کے ایک جگہ پر اکٹھے ہونے پر بھی پابندی ہے۔

جمعہ دسں محرم کو تعزیے کے جلوس میں شریک سیکڑوں افراد نے راول پنڈی کے مشہور راجہ بازار میں واقع مدرسہ تعلیم القرآن اور مسجد پر دھاوا بول دیا تھا۔جلوس میں شریک بعض بلوائیوں نے مسجد، مدرسے اور اس کے ساتھ واقع کپڑے کی مشہور مارکیٹ کو آگ لگا دی تھی۔

اس دوران بعض مسلح افراد نے وہاں موجود لوگوں پر فائرنگ کردی اور انھیں وحشیانہ انداز میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔حکومتِ پنجاب نے مدرسہ تعلیم القرآن اوراس سے ملحقہ مسجد کے اندر اور باہر پیش آئے تشدد کے واقعے میں صرف دس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔تاہم بعض عینی شاہدین نے ہلاکتوں کی تعداد بیس، بائیس بتائی ہے۔ان میں سے بعض کے انتہائی بے دردی سے سرقلم کردیے گئے تھے۔

پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا نے راجہ بازار میں پیش آئے اس خونریز واقعے کی بوجوہ کوریج نہیں کی تھی جس کی وجہ سے اسے عوامی حلقوں کی جانب سے اور سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے جبکہ پرنٹ میڈیا میں بھی تمام حقائق سامنے نہیں لائے جارہے ہیں۔ابھی تک یہ بات بھی سربستہ راز ہے کہ محرم کے جلوس میں شریک اہل تشیع اور مسجد میں نمازجمعہ کے لیے موجود اہل سنت کے درمیان لڑائی کا آغاز کیسے ہوا تھا اور بعض سفاک بلوائیوں نے لوگوں کو آناً فاناً کیوں قتل کرنا شروع کردیا تھا۔

راول پنڈی میں پیش آئے اس خونیں واقعے کے بعد حکومت اور علماء لوگوں سے پُرامن رہنے کی اپیلیں کررہے ہیں تاکہ ملک کے دوسرے علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ایک عرصے سے اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان آویزش چلی آرہی ہے اور فریقین کے ایک دوسرے پر حملوں کے نتیجے میں حالیہ برسوں کے دوران ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔