.

پرویزمشرف غداری مقدمہ: تین رکنی خصوصی عدالت کا قیام

سابق صدر کے خلاف مقدمے کی سماعت کے لیے تین ہائی کورٹس کے جج مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومت پاکستان نے وزیراعظم میاں نواز شریف کی منظوری کے بعد سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے تین ججوں پر مشتمل خصوصی عدالت قائم کردی ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق تین رکنی خصوصی ٹرائبیونل کے سربراہ عدالتِ عالیہ سندھ کے جج جسٹس فیصل عرب ہوں گے۔عدالت عالیہ لاہور کے جج یاور علی خان اور بلوچستان ہائی کورٹ کی خاتون جج طاہرہ صفدر اس کی رکن ہوں گی۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے ان تینوں ججوں کا تقرر ان کی سنیارٹی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

قبل ازیں پانچوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے عدالت عظمیٰ کو منگل کو ایک ،ایک جج کا نام بھجوایا تھا۔ان میں سے تین کو سابق صدر کے خلاف آئین کی دفعہ چھے کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت کا جج مقرر کیا گیا ہے۔اس خصوصی عدالت کے لیے مذکورہ ججوں کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نورالحق قریشی اور پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس یحییٰ آفریدی کو نامزد کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے مذکورہ تین سینیر ججوں کے نام وفاقی حکومت کو بھیجے تھے۔اب ان تین ججوں پرمشتمل خصوصی عدالت اپنے قیام کے بعد اسلام آباد میں کام شروع کردے گی۔ اس خصوصی عدالت کا خاص دائرہ کار ہوگا اور کوئی بھی دوسری عدالت اس کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکے گی۔

سابق صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ غداری ایکٹ مجریہ 1973ء کے تحت چلایا جائے گا۔اس کے تحت جنرل پرویز مشرف کو قصوروار ثابت ہونے پر عمر قید یا موت کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔آئین کی دفعہ چھے میں بھی اس سنگین جرم کی یہی سزا مقرر کی گئی ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے اتوار کو ایک نشری نیوزکانفرنس میں سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف 3نومبر2007ء کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدام پر آئین کی دفعہ چھے کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین توڑنے پر کسی فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جارہا ہے اور یہ فیصلہ قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔

ان کے اس اعلان کے بعد حکومت نے سوموار کوعدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ،جسٹس افتخار محمد چودھری کو ایک خط بھیجا تھا جس میں ان سے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے ہائی کورٹس کے تین ججوں پر مشتمل ایک ٹرائبیونل قائم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

اس خط میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ بالا ایکٹ کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے عدالت عالیہ کے تین ججوں پر مشتمل خصوصی عدالت قائم ہونی چاہیے،اب چونکہ ملک میں پانچ ہائی کورٹس کام کررہی ہیں،اس لیے ان پانچوں میں سے کوئی سے تین جج نامزد کیے جائیں۔

سابق فوجی صدر کے خلاف اس سے پہلے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی دسمبر 2007ء میں بم دھماکے میں ہلاکت سمیت چار فوجداری مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ان چاروں مقدمات میں ان کی ضمانت منظور ہوچکی ہے اور عدالت نے ضمانتی مچلکے جمع کروانے پر انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

انھوں نے گذشتہ ہفتے عدالت میں بیرون ملک جانے کی اجازت کے حصول کے لیے درخواست دائر کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ انھیں دبئی میں علیل والدہ کی تیمارداری کے لیے جانے کی اجازت دی جائے۔واضح رہے کہ سابق صدر کا نام وزارت داخلہ کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہے اور وہ حکومتِ پاکستان کی اجازت کے بغیر بیرون ملک نہیں جاسکتے ہیں۔