.

''طالبان سے مذاکرات کے دوران کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوگا''

امریکا نے پاکستان کو یقین دہانی کرادی:وزیراعظم کے مشیر امورخارجہ کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے پاکستان سے وعدہ کیا ہے کہ حکومت کے طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات کے دوران مستقبل میں کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا جائے گا۔

یہ بات وزیراعظم میاں نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کو بدھ کو ایک بریفنگ کے دوران بتائی ہے۔انھوں نے بتایا کہ حکومت کے مذاکرات کاروں کی ٹیم طالبان جنگجوؤں سے 2 نومبر کو بات چیت کے لیے جانے کو تیار تھی لیکن اس سے ایک روز قبل یکم نومبر کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ حکیم اللہ محسود امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔

سرتاج عزیز نے کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ حکیم اللہ محسود کومذاکرات کاروں کی ایک فہرست بھیجی گئی تھی اور انھوں نے خود اس میں دو علماء کے نام شامل کرنے کے لیے کہا تھالیکن اب ٹی ٹی پی کے سابق سربراہ کی ہلاکت کے بعد مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوچکا ہے۔

مشیر امور خارجہ کے بہ قول امریکا نے پاکستان کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں حکومت کی طالبان کے ساتھ امن بات چیت کے دوران کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا جائے گا۔تاہم انھوں نے اس امر کی وضاحت نہیں کی کہ امریکا نے یہ یقین دہانی کب کرائی تھی۔

وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان نے گذشتہ ہفتے صحافیوں سے کہا تھا کہ پاکستانی سرزمین پر جب تک ڈرون حملے روکے نہیں جاتے،اس وقت تک امن عمل کو آگے بڑھانا مشکل ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حکیم اللہ محسود پرامریکی ڈرون حملے نے ریاست مخالف جنگجوؤں کے ساتھ امن معاہدے کے لیے حکومتی کوششوں کو سبوتاژ کردیا ہے۔