ملاّ عبدالغنی برادر کی افغان امن وفد سے اسلام آباد میں ملاقات

طالبان کی شوریٰ کونسل کا افغان امن کونسل کے نام خصوصی پیغام پہنچایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان کے اعلیٰ سطح کے امن وفد نے پاکستان کے اپنے حالیہ دورے میں اسلام آباد میں طالبان کے سابق نائب امیر ملاّ عبدالغنی برادر سے ملاقات کی ہے اور ان سے جنگ زدہ ملک سے غیرملکی فوجوں کے انخلاء اور اس کے بعد قیام امن کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے پانچ رکنی وفد نے چئیرمین صلاح الدین ربانی کی قیادت میں 19 سے 21 نومبر تک پاکستان کا دورہ کیا ہے۔پاکستان کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدے دار نے ملاّعبدالغنی برادر اور افغان وفد کے درمیان ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تین گھنٹے تک جاری رہی تھی اور اس میں ملاّبرادرنے وفد کو طالبان کی شوریٰ کونسل کا ایک خصوصی پیغام دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق ملاّ عبدالغنی برادر کو پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی سے اسلام آباد میں افغان وفد سے ملاقات کے لیے خصوصی طور پرلایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کو طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ مذاکرات کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔پہلے اس کے سربراہ پروفیسر برہان الدین ربانی تھے۔ان کی ایک بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد ان کے بیٹے صلاح الدین ربانی کو امن کونسل کا سربراہ بنا دیا گیا تھا۔

ملاّ برادرکو پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے 2010ء میں گرفتار کیا تھا ۔انھیں 20ستمبر کو رہا کردیا گیا تھا مگر وہ تب سے کراچی میں کسی گھر ہی میں نظربند ہیں اور انھیں آزادانہ میل ملاقاتوں کی اجازت نہیں ہے۔کسی افغان وفد سے ان کی یہ پہلی ملاقات ہے۔

افغان عہدے داروں کا خیال ہے کہ ملاّبرادر طالبان رہ نماؤں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تاکہ افغانستان میں گذشتہ بارہ سال سے جاری مزاحمتی جنگ کا خاتمہ کیا جاسکے اور 2014ء میں غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد ملک میں قیام امن کو یقینی بنایا جاسکے۔

افغان وفد نے اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز اور وزیراعظم میاں نوازشریف سے ملاقات کی تھی اور ان سے افغانستان میں امن اور مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کیا تھا۔اب میاں نواز شریف 30 نومبر کو افغانستان کا دورہ کریں گے اور امن اور مصالحتی عمل کے حوالے سے افغان قیادت سے مزید تبادلہ خیال کریں گے۔

یاد رہے کہ 3 اکتوبر کو یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ افغان طالبان نے پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں اپنے سابق نائب امیرملاّ برادر سے ملنے سے انکار کردیا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ ان کے ساتھ پاکستان کے سکیورٹی ایجنٹس موجود ہیں۔

ملاّ برادر طالبان کے دور حکومت میں امیر ملاّ محمد عمر کے دست راست رہے تھے اور انھوں نے انھیں اپنا بھائی قرار دے رکھا تھا۔وہ افغان صدر حامد کرزئی کے قبیلے سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔افغانستان اس سے پہلے انھیں حوالے کرنے کا مطالبہ کرچکا ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ آزاد ہیں لیکن انھیں افغانستان کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔البتہ اگر وہ خود اپنے وطن جانا چاہیں تو وہ جاسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں