.

امریکی ''ہیرو'' شکیل آفریدی کیخلاف بچے کے قتل کا مقدمہ

امریکا میں فائی کی رہائی، پاکستان میں آفریدی کی خبریں گرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کیلیے انتہائی اہمیت اور محبت کے حامل پاکستانی شہری شکیل آفریدی کیخلاف ایک بچے کے قتل کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن تک پاکستان کے اہم فوجی شہر ایبٹ آباد میں امریکی رسائی کیلیے اہم کردار ادا کیا تھا۔

وہ آج کل پاکستانی عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے بعد انتہائی سکیورٹی میں قید بھگتنے والا امریکا کیلیے محبوب قیدی ہے۔

شکیل آفریدی کے خلاف ایک خاتون نے مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کی تھی کہ ایک فزیشن ہونے کے باوجود ڈاکٹر شکیل آفریدی نے اس کے بیٹے کا ایک سرجن بن کر آپریشن کیا۔ بعد ازاں اس آپریشن کی وجہ سے اس کے بیٹے کی جان چلی گئی۔ اس لیے شکیل آفریدی کے خلاف مقدمہ قتل درج کیا جائے۔

مبینہ مقتول بچے کی ماں کی درخواست پر درج کیے گئے مقدمے کے حوالے سے سمیع اللہ آفریدی نے خبر رساں ادارے 'اے پی' کو بتایا ہے کہ 2006 میں ہلاک ہونے والے ایک بچے کے مبینہ قتل کا مقدمہ شکیل آفریدی پر چلایا جائے گا۔

دوسری جانب ایک قانون دان کا کہنا ہے کہ شکیل آفریدی کے خلاف 2006 میں ایک بچے کا غلط آپریشن کر کے اس کی جان لینے کا مقمہ نہیں چلایا جا سکتا ہے کیونکہ اس بچے کی موت کو کئی سال گزر چکے ہیں۔

ادھر امریکا نے پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دورہ امریکا کے دوران زور دیا تھا کہ شکیل آفریدی کو رہا کر کے امریکا بھیج دیا جائے کہ اس نے امریکا کی غیر معمولی مدد کی ہے۔

اس سے پہلے امریکا سے یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ امریکا، کشمیری امریکن کونسکل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام نبی فائی کی رہائی دینے کے بدلے شکیل آفریدی کی پاکستان سے رہائی چاہتا ہے۔

دلچسپ بات ہے کہ شروع میں ان خبروں کی دونوں طرف سے سرکاری سطح سے تصدیق نہیں کی گئی تھی ۔ لیکن اب ڈاکٹر فائی کو ملنے والی مارچ2012 میں دو سال کی سزا کے باوجود رہائی ممکن ہو گئی ہے۔

ڈاکٹر فائی کی اس رہائی سے پاکستان میں پچھلے تقریبا ایک ماہ سے جاری ان افواہوں میں ایک مرتبہ پھر جان پڑ گئی ہے کہ شکیل آفریدی کی امریکی دباو کے باعث رہائی ہو سکتی ہے۔

واضح رہے تحریک طالبان کے حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد شکیل آفریدی کی جا کو خطرات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں جبکہ ملالہ یوسف زئی کے والد ضیاء الدین نے اپنے ایک بیان میں انہی دنوں شکیل آفریدی کے رہا ہو جانے کا اشارہ دیا ہے۔