.

ڈرون حملے کے خلاف مظاہرین نے نیٹو سپلائی بند کر دی

سیکیورٹی کے پیش نظر 50 کنٹینرز پنجاب میں روک لئے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں نے پشاور میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین نے نیٹو سپلائی لائن بند کر کے احتجاجی جلسہ منعقد کیا ہے۔

اس جلسے میں شریک مختلف سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں نے جہاں امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا وہاں وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر بھی نکتہ چینی کی۔

اس جلسے سے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ان کی پارٹی کی حکومت ہے وہ نیٹو سپلائی روک دیں گے ان کا کہنا تھا: ”چونکہ یہ حملہ پختونخوا کے حدود میں ہوا ہے اس لیے صوبائی حکومت سے یہی کہوں گا کہ آپ نے ایف آئی آر تو درج کرائی لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت مؤثر اقدامات اٹھاتے ہوئے نیٹو کی سپلائی بند کرے۔‘‘

تحریک انصاف کے سربراہ کا مزید کہنا تھا: ’’صوبہ خیبر پختونخوا سے نیٹو کی سپلائی لیکر جانے والی گاڑیوں کو اس وقت جانے نہیں دیں گے جب تک امریکا اس بات کی یقین دہانی نہ کرائے کہ امن مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہیں ہوں گے۔‘‘

عمران خان نے مزید کہا: ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فریق بننے سے قبل پاکستان کے ذمے پانچ سو ارب روپے کا قرضہ تھا لیکن اس جنگ کا حصہ بننے کے بعد یہ قرضہ بڑھ کرچودہ ہزار ارب تک پہنچ گیا ہے۔ یہ قرضہ پاکستان کے عوام کے لیے نہیں بلکہ امریکی جنگ کے لیے خرچ کیا گیا لیکن اس کے باوجود امریکا پاکستان سے خوش نہیں اور یہاں ڈرون حملے کرکے بے گناہ افراد کو مارا جا رہا ہے۔‘‘

دوسری جانب صوبائی حکومت کے وزراء اس احتجاج سے دور رہے اس سے قبل صوبائی کابینہ نے احتجاج کا دائرہ بڑھانے کے لیے اتحادیوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی وزیر شاہ فرمان اس کے سربراہ جبکہ عنایت اللہ اور شہارام خان ترکئی اس کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔ یہ کمیٹی امریکی سفارتخانے، قونصلیٹ، اقوام متحدہ کے دفتر، قومی اسمبلی اور سینٹ کے سامنے احتجاجی مظاہروں کے لیے لائحہ عمل تیار کرے گی۔

ڈروں حملوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی جلسے میں تحریک انصاف کے علاوہ جماعت اسلامی، عوامی جمہوری اتحاد اورعوامی مسلم لیگ کے راہنماؤں نے بھی شرکت کی ڈروں حملوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی جلسے میں تحریک انصاف کے علاوہ جماعت اسلامی، عوامی جمہوری اتحاد اورعوامی مسلم لیگ کے راہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

دوسری جانب پنجاب سے خیبر پختونخوا میں داخل ہونے والے پچاس کے قریب نیٹو سپلائی لے جانے والے کنٹینرز کو سیکورٹی کی وجہ سے پنجاب کے علاقہ ترنول میں روک دیا گیا۔ نیٹو کے لیے تیل اور اشیاء ضرورت لے جانیوالے پچاس سے ایک سو تک کنٹینرز روزانہ پاک افغان سرحد طورخم کے راستے افغانستان جاتے ہیں۔

پشاور میں ہونے والے احتجاجی جلسے کے لیے پشاور میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کی بندش کے ساتھ ساتھ جلسہ گاہ میں پانچ سو سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

کچھ عرصہ قبل تک پشاور میں نیٹو سپلائی لے جانے والے ٹرکوں کے آٹھ ٹرمینل تھے تاہم ان کنٹینرز پر مسلسل حملوں کی وجہ سے اب ان کی تعداد کم ہوکر صرف دو رہ گئی ہے۔ اب زیادہ تر سپلائی بلوچستان میں واقع افغان سرحد چمن کے راستے ہو رہی ہے جو نہ صرف کراچی کے نزدیک ہے بلکہ خیبر پختونخوا کے مقابلے میں محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔