.

پاکستان آرمی کا نیا سربراہ کون ہو گا؟ پردہ اٹھنے کا انتظار

ماضی میں اپنے مقررکردہ آرمی چیف سے ڈسے نوازشریف اب کیا فیصلہ کریں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی طاقتور مسلح افواج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت آیندہ جمعہ کو ختم ہو رہی ہے اور ان کی جگہ وزیر اعظم میاں نواز شریف دو ایک روز میں نئے آرمی چیف کا تقرر کریں گے۔

پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں نئے آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے قیاس آرائیاں ،تبصرے اور بیانات جاری ہیں۔تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے والے میاں نواز شریف کے فوج کے ساتھ ماضی میں کوئی مثالی تعلقات قائم نہیں رہے ہیں۔ان کے 1990ء سے 1993ء تک پہلے دورحکومت میں مسلح افواج کے سربراہوں سے اختلافات رہے تھے۔

1997ء سے 1999ء تک دوسرے دور حکومت میں انھوں نے ایک آرمی چیف سے تو قومی سلامتی کونسل کی تشکیل سے متعلق بیان دینے پر استعفیٰ لے لیا تھا لیکن ان کے مقرر کردہ دوسرے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء کو ان کی منتخب حکومت کو برطرف کردیا تھا اور خود ملک کے سیاہ وسفید کے مالک بن بیٹھے تھے۔وہ اگست 2008ء تک ملک کے مطلق العنان حکمران رہے تھے۔اب وہ اپنے گھر پر نظربند ہیں اور قتل وغداری کے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔

میاں نواز شریف نے قبل از وقت آرمی چیف کا تقرر نہ کرکے ایک سسپنس پیدا کردیا ہے اور سینیر جرنیلوں کی لاٹ میں شامل تمام ناموں کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ فلاں بھی آرمی چیف ہوسکتا ہے اور فلاں جنرل بھی اس عہدے کے لیے موزوں ہے۔

مگر پاکستان کے 2008ء میں قومی سلامتی کے مشیر اور امریکا کے قریب سمجھے جانے والے میجر جنرل محمود درانی دور کی کوڑی لائے ہیں۔انھوں نے یہ درفنطنی چھوڑی ہے کہ ''جو ملک کے لیے بہترین ہو،وہ شاید بہتر سیاسی آپشن نہ ہو''۔ان کا کہنا ہے کہ نوازشریف اس جنرل کو آرمی چیف مقرر کرنے کی کوشش کریں گے جو ان کی مرضی کے تابع رہے اور وہ اس کو مقرر نہیں کریں گے جو آرمی کے لیے بہتر ہوسکتا ہے۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جمعہ کو چھے سالہ مدت پوری ہونے پر ریٹائرمنٹ کے بعد نئے آرمی چیف کے تقرر کے لیے تین سینیر جرنیلوں کے نام سامنے آئے ہیں۔وہ لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم ،لیفٹیننٹ جنرل طارق خان اور لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود ہیں۔موخرالذکر جنرل محمود کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جنرل کیانی کے فیورٹ ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل طارق خان پاکستان آرمی کی ایک کور کی کمان کررہے ہیں۔ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ معاملہ کاری میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم اس وقت آرمی میں سب سے سینیرعہدے دار ہیں اور وہ جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے جانشین ہوسکتے ہیں۔

لیکن پاکستان آرمی میں ایک روایت یہ بھی رہی ہے کہ اگر سول حکومت کسی جونیئر جنرل کو فوجی سربراہ مقرر کردے تو اس سے سینیر جرنیل ازخود ریٹائرمنٹ لے لیتے ہیں اور وہ اپنے سے کسی جونییر افسر کے ماتحت کام نہیں کرتے ہیں۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے چھے سالہ دور میں ملک میں جمہوریت کے فروغ اور فوج کو سیاست میں مداخلت سے باز رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ اور بات ہے کہ اب بھی بہت سے شعبوں اور محاذوں پر سول حکومت سے زیادہ فوج کا عمل دخل ہے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف اپنے دور حکومت میں یہی چاہیں گے کہ فوج کی سیاست میں مداخلت نہ ہو اور نیا کمانڈر بھی اس امر کو یقینی بنائے لیکن ان کی حکومت کے ایک سینیر عہدے دار کو یہ یقین نہیں ہے کہ نیا فوجی سربراہ جنرل کیانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بیرکوں ہی میں رہے گا۔

اس عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ''میاں نواز شریف یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ سینیر آرمی افسر جنرل کیانی کی نرم حکمت عملی کی حمایت نہیں کرتے ہیں اور یہی امر ان کے لیے عدم اطمینانی کا سبب ہے۔چنانچہ وہ کسی مہم جوئی کی پوزیشن میں نہیں''۔

میاں نوازشریف نے مئی میں منعقدہ عام انتخابات کے لیے مہم کے دوران بھارت سے تعلقات کی بہتری پر بھی زوردیا تھا اور یہ ان کی انتخابی مہم کا ایک اہم نکتہ تھا مگراس کے لیے انھیں فوج کی مدد درکار ہے اور فوجی تعاون کے بغیر وہ بھارت سے بہتر تعلقات استوار نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ پاکستان آرمی بھارت سے تین بڑی اور ایک چھوٹی جنگ لڑ چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جب تک خاص طور پر تنازعہ کشمیر منصفانہ انداز میں طے نہیں پاجاتا ،اس وقت تک ان میں تعلقات کی بہتری ناممکنات میں سے ہے۔

پاک آرمی کے بعض حلقے ملک کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں سکیورٹی فورسز سے برسرپیکار طالبان جنگجوؤں سے سول حکومت کے امن مذاکرات کے بھی حامی نہیں۔جنرل کیانی نے تو طالبان جنگجوؤں سے امن بات چیت کی حمایت کی تھی لیکن امریکی سی آئی اے کے ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد جنگجو حکومت سے مذاکرات سے انکار کرچکے ہیں اور وہ پاکستان کے خفیہ اداروں پر ڈرون حملے کے ضمن میں امریکا کو تعاون فراہم کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔

امریکا پاکستان میں نئے آرمی چیف کے تقرر کے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ ایسا فوجی سربراہ چاہے گا جو افغانستان سے 2014ء کے آخر میں تمام غیرملکی فوجوں کے انخلاء کے عمل میں مکمل تعاون کا یقین دلائے جبکہ پاکستانی حکومت آرمی چیف کے عہدے پر کسی ایسے جنرل کو مقرر کرنا چاہتی ہے جو ملک وقوم کے مفاد کو مقدم رکھے اور کوئی ایسی مہم جوئی نہ کرے جو خود منتخب حکومت کے لیے وبال جان بن جائے۔