.

''آج ہی 35 لاپتہ افراد پیش کیے جائیں'': چیف جسٹس پاکستان

پاکستان کی عدالت عظمی کی وزارت دفاع پر پھر سخت برہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان جہاں ٹھیک دو دن بعد فوجی قیادت میں تبدیلی آنے والی ہے وزیراعظم میاں نواز شریف کی براہ راست نگرانی میں کام کرنے والی وزارت دفاع کو اس وقت غیر معمولی سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب عدالت عظمی نے لاپتہ افراد کو پیش نہ کرنے پر وزارت دفاع کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے مقدمے کی سماعت پاکستان کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس اہم مقدمہ کی سماعت کی۔ اس بنچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس جواد ایس خواجہ،اور جسٹس امیر ہانی مسلم شامل ہیں۔

منگل کی صبح عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا تو گزشتہ روز عدالت کی طرف سے دیے گئے حکم کے مطابق وزارت دفاع نے 35 لاپتہ افراد کو پیش کیا، نہ ہی سیکرٹری دفاع اس موقع پر عدالت میں حاضر ہوئے، تاہم ایڈیشنل سیکرٹری دفاع عدالت میں موجود تھے۔

ایڈدیشنل سیکرٹری دفاع نے عدالت کو بتایا گیا کہ سیکرٹی دفاع بوجہ علالت نہیں آ سکے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس پر ریماکس دیتے ہوئے کہا اگر سیکرٹری دفاع بیمار تھے تو انہیں چھٹی لیکر چارج کسی دوسرے کے حوالے کر دینا چاہیے تھے۔

چیف جسٹس نے عدالت ایک بجے دن تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا کہ 35 لاپتہ افراد کو جہاں سے مرضی لائیں، انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ وزیر اعظم، وزیر دفاع، یا کسی وردی والے سے رابطہ کر کے بتائیں کہ یہاں کون جواب داخل کرائے گا۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیکرٹری دفاع کو حکم دیا کہ ایک بجے تک 35 لاپتہ افراد کو ہر صورت عدالت میں پیش کریں، اگر آج بھی ان افراد کو پیش نہ کیا گیا تو نتائج سے آگاہ رہیں۔

بعدازاں دوبارہ عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو ایڈیشنل سیکرٹری دفاع عدالتی حکم کے مطابق 35 لاپتہ افراد کو پیش نہ کر سکے۔ اس پر چیف جسٹس نے زیادہ برہمی ظاہر کی اور کہا آج ہر صورت میں لاپتہ شہریوں کو عدالت میں لایا جائے۔

چیف جسٹس نے یہ بھی کہا آج ہر صور ت لاپتہ لوگوں کو پیش کیا جائے خواہ اس کے لیے رات کو بھی عدالت لگانی پڑے۔ واضح رہے پیر کے روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس مقدے کی سماعت کے دوران وفاقی سیکرٹری دفاع کو پیش ہونے کیلیے کہا گیا تھا۔