.

بلوچ سُنی تنظیم کا ایرانی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ

عسکریت پسند تنظیم کی مزید کارروائیوں کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے پاکستان سے متصل صوبہ بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسند گروپ "جیش العدل" نے سراوان کے مقام پر ایرانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

'جیش العدل' کے ترجمان عبدالرؤف ریگی نے ایک نامعلوم مقام سے بذریعہ ٹیلی فون "العربیہ" کو بتایا کہ تنظیم کے الشیخ ضیائی بریگیڈ نے اپنے کیمپ کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے ایک ایرانی ہیلی کاپٹرکو نشانہ بنایا جس کےنتیجے میں ہیلی کاپٹر گر کرتباہ ہو گیا۔ ترجمان نے کہا کہ انہوں نے یہ کارروائی صوبہ بلوچستان میں تنظیم کے اہم کمانڈرعمر شاھوزی کے مکان پر راکٹ حملے کے جواب میں کی۔ اس راکٹ حملے میں مکان میں موجود ایک بچہ جاں بحق اور متعدد خواتین زخمی ہوگئی تھیں۔

تنظیم کے ترجمان نے بتایا کہ جنگجوؤں نے دیسی ساختہ "دوشکا" راکٹوں سے ایرانی ہیلی کاپٹرکو نشانہ بنایا، راکٹ لگنے کے بعد دس منٹ تک ہیلی کاپٹر فضاء میں پرواز کرتا رہا پھر گرکر تباہ ہو گیا۔ عبدالروف ریگی نے دھمکی دی ہے کہ ایرانی پاسدارن انقلاب سنی اکثریتی صوبہ بلوچستان سے نکل جائیں ورنہ ان کے خلاف اس طرح کی مزید کارروائی کی جائیں گی۔

ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی "فارس" نے بھی بارڈر فورس کے ایک ہیلی کاپٹر کے حادثے کی تصدیق کی ہے تاہم حادثے کی وجہ فنی خرابی بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہیلی کاپٹر حادثے میں کس قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ایرانی صوبہ سرافان کے گورنرمحمد شریف خالقی نے بتایا کہ حادثےکا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر میں عملے کے چارافراد سوار تھے تاہم وہ چاروں محفوظ رہے ہیں۔

حکومت مخالف تنظیم "جیش العدل" ملک میں اہل سنت مسلک کے حامیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک پر شاکی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اہل سنت کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔ جب تک ایرانی حکومت اہل سنت مسلک کے لوگوں کو مساوی حقوق نہیں دے گی وہ پرتشدد کارروائیاں جاری رکھیں گے۔