.

پی ٹی آئی کا سی آئی اے کے اسٹیشن چیف کا پتا چلانے کا دعویٰ

امریکی ایجنسی کے ڈائریکٹر اور اسٹیشن ہیڈ پر ڈرون حملوں کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق کرکٹ اسٹار عمران خان کی جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ملک میں امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اسٹیشن ہیڈ کا پتا چلانے کا دعویٰ کیا ہے اور ان پر اور ایجنسی کے سربراہ پر حالیہ میزائل حملے کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی کی خاتون ترجمان ڈاکٹر شیریں مزاری نے اسلام آباد میں سی آئی اے کے اسٹیشن ہیڈ کا پتا چلانے کا دعویٰ کیا ہے لیکن امریکی ایجنسی کے ترجمان ڈیوڈ بائیڈ نے اس نام کی تصدیق نہیں کی اور اس حوالے سے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے پی ٹی آئی کی جانب سے فراہم کردہ نام کو شائع کرنے سے انکار کردیا ہےاور کہا ہے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینان اور سی آئی اے کے اسٹیشن چیف کے خلاف شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہنگو میں ایک دینی مدرسے پر بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے کے الزام میں پاکستان میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ان کے بہ قول سی آئی اے کے اسٹیشن ہیڈ کو کوئی سفارتی تحفظ حاصل نہیں ہے۔

ہنگو میں 21 نومبر کو اس ڈرون حملے میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔ان میں سے تین کے بارے میں انٹیلی جنس حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ افغان جنگجو تھے۔وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے باہر پاکستان کے کسی بندوبستی علاقے میں امریکی سی آئی اے کا یہ پہلا ڈرون حملہ تھا۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کی حکومت ہے اور انھوں نے اس حملے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔پی ٹی آئی کے کارکنان نے ہفتے کے روز صوبائی دارالحکومت پشاور میں احتجاجی ریلی نکالی تھی اور انھوں نے پاکستانی علاقے سے افغانستان میں موجود نیٹو فوجوں کے لیے سامان رسد لے جانے والے کنٹینروں اور ٹینکروں کو سرحدی علاقے میں روک دیا تھا۔

واضح رہے کہ سی آئی اے نے دسمبر 2010ء میں بھی پاکستان سے اپنے مخبر اعلیٰ کی شناخت ظاہر ہونے کے بعد اسے واپس بلا لیا تھا۔اس اسٹیشن ہیڈ کو طالبان جنگجوؤں نے قتل کی دھمکی دی تھی۔اس کے خلاف ڈرون حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کے الزام میں عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے قانونی درخواست دائر کی گئی تھی۔اس میں اس اسٹیشن چیف کا نام دیا گیا تھا لیکن اے پی نے اس وقت بھی اس نام کی تصدیق نہیں کی تھی۔