.

کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد اور ٹارگٹ کلنگ،شیعہ لیڈر سمیت 12 قتل

بلوچستان کے ضلع خضدار میں فائرنگ کے دو الگ الگ واقعات میں چار افراد کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک شیعہ لیڈر سمیت بارہ افراد کو قتل کردیا گیا ہے اور بلوچستان میں فائرنگ کے دو الگ الگ واقعات میں چار افراد مارے گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق منگل کو کراچی میں فائرنگ کا پہلا واقعہ گلشن اقبال کے علاقے میں این ای ڈی یونیورسٹی کے نزدیک پیش آیا ہے۔مسلح افراد ایک موٹر سائیکل پر سوار تھے۔انھوں نے مجلس وحدت المسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ دیدار علی جلبانی کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس سے وہ اور ان کا محافظ مارے گئے ہیں۔

کراچی کے ایک سینیر پولیس افسر پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ قتل کا یہ واقعہ فرقہ وارانہ تشدد کا شاخسانہ ہے اور اس کا مقصد شہر میں فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانا ہے۔

اس واقعہ کے بعد کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے اہل سنت کی ایک مسجد کے باہر فائرنگ کرکے تین مبلغین کو قتل کردیا۔ایک سینیر پولیس افسر عامر فاروقی نے بتایا ہے کہ چار مسلح افراد دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر آئے تھے اور انھوں نے مسجد کے باہر کھڑے تبلیغی جماعت کے ارکان پر فائرنگ کردی جس سے تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے اور حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

عامر فاروقی کا کہنا تھا کہ مقتولین میں دو کا تعلق مراکش سے معلوم ہوا۔تاہم پولیس ان کی قومیت کی تصدیق کے لیے کام کررہی ہے۔اسلام آباد میں مراکش کے سفارت خانے نے فوری طور پر اس واقعہ پر کوئی تبصرہ کیا ہے اور نہ اپنے شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

کراچی کے نواحی علاقے سخی حسن میں اہدافی قتل کے ایک اور واقعہ میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے چار افراد کو قتل کردیا۔ گذشتہ روز کراچی میں ایک سنی عالم دین کو مسلح افراد نے گولی مار کر قتل کردیا تھا۔اتوار کو فرقہ وارانہ تشدد کے واقعے میں دو شیعہ نوجوان مارے گئے تھے۔

درایں اثناء مجلس وحدت المسلمین نے علامہ جلبانی کے قتل پر تین دن کے سوگ اور بدھ کو ملک گیر پُرامن احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس جماعت کے لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے حکومت کو قاتلوں کی گرفتاری کے لیے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔

ادھر صوبہ بلوچستان کے شورش زدہ ضلع خضدار میں تشدد کے دو الگ الگ واقعات میں ایک اسکول ٹیچر سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایک لیوی اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ضلع کے علاقے زہری ٹاؤن میں موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک اسکول استاد کو قتل کردیا۔مقتول کا تعلق کراچی سے تھا اور اس کی شناخت ندیم میمن کے نام سے کی گئی ہے۔

خضدار کے علاقے کھنڈ میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک لیوی اہلکار سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ایک لیوی اہلکار کے مطابق تین مسلح افراد نے لیوی اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی۔اس کے جواب میں اہلکاروں کی فائرنگ سے دو حملہ آور مارے گئے اور تیسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

فوری طور پر لیوی اہلکاروں پر حملے کے محرکات کا پتا نہیں چل سکا اور نہ کسی گروپ نے ان دونوں واقعات میں ہلاکتوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔واضح رہے کہ خضدار کو صوبہ بلوچستان کا سب سے زیادہ حساس ضلع خیال کیا جاتا ہے۔اس ضلع میں فرقہ پرست گروہوں کے علاوہ بلوچ علاحدگی پسند بھی سرگرم ہیں اور یہاں اہدافی قتل،بم دھماکے اور اغوا برائے تاوان کے واقعات آئے دن رونما ہوتے رہتے ہیں۔