''امریکا تورخم کے راستے نیٹو سپلائی روکنے پر مجبور ہو گیا''

کنٹینرز ''رضاکارانہ'' روک دیے، جلد دوبارہ کھولیں گے: پینٹاگان ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا نے افغانستان سے تورخم کے راستے افغانستان سے جنگی سامان واپس لے جانے والے نیٹوکنٹینرز کو روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان پینٹاگان کیطرف سے سامنے آیا ہے۔

امریکا کو یہ فیصلہ پاکستان میں ڈرون میزائل حملوں کے خلاف دو اہم جماعتوں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے احتجاج اور نیٹو کنٹینرز کو روکنے کیلیے تقریبا دو ہفتوں سے جاری مہم کے باعث کرنا پڑا ہے۔

تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے کارکن مشترکہ طور پر اپنے دیگر اتحادیوں کے ساتھ نیٹو سپلائی کیلیے استعمال ہونے والے کنٹینرز کو روک کر چیک کر رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کی مرکزی حکومت نیٹو سپلائی روکنے کے حق میں نہیں ہے۔

افغانستان میں دہشت گردی کی صورتحال کے لیے 2001 کے شروع میں ہونے والی نیٹو سپلائی کو سرکاری طور پر بند کرنے کا اب تک یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے بندش پاک فوج کے سلالہ کیمپ پر امریکی حملے سے ہونے والی 24 فوجی ہلاکتوں کے سبب پاک فوج نے لگائی تھی۔ اب یہ فیصلہ امریکا کی طرف سے سرکاری طور پر کیا گیا ہے۔

تاہم دلچسپ بات ہے نیٹو سپلائی پہلے پاکستانی فوج کے اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل کیانی نے کیا تھا اوراب امریکی پینٹاگان نے کیا ہے۔ گویا دونوں طرف سے افواج کے ہاتھوں اہم فیصلے ہوئے ۔ امریکی پینٹاگان کے ترجمان نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ صورت حال بہتر ہونے پر جلد یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا۔

پینٹاگان کے ترجمان مارک رائٹ کے مطابق '' کنٹینرز کی لوٹ مار کے باعث ہم نے یہ فیصلہ رضا کارانہ طور پر کیا ہے اور تورخم سے کراچی تک کی گراونڈ لائن کے ذریعے نیٹوکنٹینرز کی واپسی روک دی ہے۔''

واضح رہے تورخم سے کراچی کے راستے نیٹو سامان کی واپسی اور سپلائی افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کی 2014 کے حوالے اعلان کردہ ڈیڈ لائن کیلیے بڑی اہم ہے۔ تاہم ٹرکوں اور کنٹینرز کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ خود کو ''ہولڈنگ ایریاز'' میں روک لیں۔

مارک رائٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے'' ہم پیش بینی کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ اسی راستے سے جلد نیٹو سپلائی شروع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔''

دریں اثنا ایک امریکی دفاعی ذمہ دار کا کہنا تھا'' امریکا کو یقین ہے کہ پاکستان کی حکومت نیٹو سپلائی کیلیے تورخم روٹ کے استعمال کی پوری طرح حق میں ہے۔ اس لیے پاکستان کی حکومت متعلقہ علاقے میں سکیورٹی کی صورت حال جلد بہتر بنا لے گی۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک ذمہ دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا '' جن کمپنیوں کی نیٹو سپلائِی کیلیے خدمات حاصل کی گئی ہیں وہ اپنے اعصاب کی کمزوری کا بتا رہی ہیں، اس لیے نیٹو ڈرائیوروں کی جانوں کو خطرہ ہے۔

واضح رہے امریکا کے پاس سنٹرل ایشیائی ممالک کا متبادل روٹ موجود ہے، تاہم نیٹو سپلالئی کیلیے متبادل راستہ زیادہ لمبا اور مہنگا پڑتا ہے۔

پاکستان کی دو اہم سیاسی جماعتیں ڈرون حملوں کو بند کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں تاہم امریکا کا موقف ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردوں کیخلاف اب تک سب سے زیادہ موثر ہتھیار ثابت ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں