.

امریکی حملوں کیخلاف پاکستان میں ارکان پارلیمنٹ کا دھرنا

دھرنا پارلیمنٹ کے باہر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں امریکی ڈرونز کے ذریعے میزائل حملوں کو رکوانے کیلیے پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی، جماعت اسلامی نےایک مرتبہ پھر اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جب تک ڈرون حملے نہیں رکیں گے نیٹو سپلائی سے متعلق ٹرکوں اور کنٹینرز کو صوبہ خیبر پختونخوا سے گذرنے نہیں دیا جائے گا۔

واضح رہے ڈرون حملوں کیخلاف اپنے سخت ردعمل کے اظہار کیلیے صوبہ خیبر پختونخوا کی ان دونوں جماعتوں اور ان کے بعض دیگر اتحادیوں نے ماہ نومبر کی 23 تاریخ سے عملی کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔

ان جماعتوں کی ارکان اسمبلی اور کارکن اپنے صوبے کی سڑکوں پر دھرنے دے کر اور کنٹینرز کے کاغذات چیک کر کے نیٹو کے کنٹینرز کو واپس بھیج دیتے ہیں۔

جمعرات کے روز صوبہ خیبر کی ان حکمران جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاوس کے باہر ڈرون حملوں کیخلاف دھرنا دیا اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی پارلیمنٹَ کی متفقہ قراردادوں اور اے پی سی کے فیصلوں پر عمل کرے۔

واضح رہے افغانستان سے جڑے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکمران جماعتوں اور حکومت کی طرف سے نیٹو کنٹینرز کو روکے جانے کے باعث امریکی پینٹاگان کے ترجمان نے منگل کو رات گئے ''رضاکارانہ '' طور پر نیٹو کنٹینرزک ے ذریعے نقل و حمل کا کام روکنے کا اعلان کر دیا تھا۔

معلوم ہوا ہے کہ امریکا نے یہ فیصلہ صوبہ خیبر کے عوام کے تیور دیکھتے ہوئے اور پاکستان میں اپنے سفارت خانے کی فراہم کردہ اطلاعات کی روشنی میں کیا ہے، تاہم توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی حکومت سکیورٹی کے جلد حالات بہترکر لے گی اور نیٹو سپلائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔

خیال رہے پاکستان کی مرکزی حکومت اور اپوزیشن جماعت نیٹو سپلائی کو روکنے کے حق میں نہیں ہیں بلکہ اسے قانونی تحفظ حاصل ہونے کی تصدیق کرتی ہیں۔

پالیمنٹ ہاوس کے باہر ارکان اسمبلی کے اس دھرنے سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے علاوہ وزیر اعلی صوبہ خیبر اور سینئیر وزیر سراج الحق نے بھی خطاب کیا۔