.

پاکستان کے حاضر سروس میجر جنرل کو توہین عدالت کا نوٹس

لاپتہ افراد کیس میں وزارت دفاع کو جمعہ کے روز تک پھر مہلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی سب سے بڑی آئینی عدالت سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز ٹھیک ایک ہفتے بعد ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس کی سربراہی میں ملکی تاریخ کا منفرد حکم صدر کرتے ہوئے فوج کے حاضر سروس میجر جنرل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

یہ نوٹس بلوچستان سے متعلق لاپتہ افراد کیس کے سلسلے میں آئی جی فرنٹیئیر کور میجر جنرل اعجاز شاہد کو جاری کیا گیا ہے، جنہیں سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے مقدمے میں متعدد بار عدالت میں طلب کیا لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔

اس سے پہلے ایک موقع پر ایف سی کے ترجمان نے کہا تھا آئی جی کے عدالت میں پیش ہونے سے جوانوں کا مورال متاثر ہو گا۔

بالآخر جمعرات کے روز آئی جی کو عدالت کے طلب کیے جانے کے باوجود پیش نہ ہونے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

پاکستان کی عدالتی اور عسکری تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اعلی فوجی افسر کو حاضر سروس ہونے کے باوجود اس طرح کی عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔

واضح رہے پچھلے دنوں چیف جسٹس نے لاپتہ ہونے افراد کے کیس کی سماعت کے دوران کہا تھا ''جو بھی بازیاب ہوتا ہے ایف سی کی گود سے نکلتا ہے''

جمعرات کے روز اس اہم مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ وہ آئی جی ایف سی کے وکیل کے طور پر پیش ہوئے ہیں، لیکن وکالت نامے پر اپنے موکل کے دستخط نہ کرا سکنے پر عدالت نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی اور میجر جنرل اعجاز شاہد کیخلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔

لاپتہ افراد ہی کے ایک کیس میں وفاقی وزارت دفاع آج بھی لگ بھگ تیس لاپتہ افراد کو عدالتی حکم کے مطابق پیش نہ کر سکی تو عدالت نے شام تک کارروائی موخر کردی۔ بعداازاں وزیر دفاع نے جمعہ کے روز اچھی خبر سنانے کا کہا تو حکومت کو جمعہ تک مہلت دے دی گئی۔