.

اہل سنت و الجماعت پنجاب کے صدر کا لاہور میں قتل

موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آوروں کی مولانا شمس الرحمان کی گاڑی پر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے اہل سنت والجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) صوبہ پنجاب کے صدر مولانا شمس الرحمان معاویہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔

لاہور کے ایک پولیس افسر رانا عبدالجبار نے بتایا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ شہر کے شمالی علاقے ہربنس پورہ میں پیش آیا ہے اور موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے مولانا شمس الرحمان معاویہ کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس سے وہ اور ان کا ڈرائیور شدید زخمی ہوگئے۔ انھیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا جہاں مولانا معاویہ دم توڑ گئے ہیں۔

رانا عبدالجبار نے صحافیوں کو بتایا کہ واقعے کی تفتیش شروع کردی گئی ہے لیکن بظاہر یہ اہدافی قتل کا واقعہ لگتا ہے۔ انھوں نے حملے کو صوبے میں فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی پھیلانے کی سازش قرار دیا ہے۔ دم تحریر ڈرائیور کی حالت تشویش ناک بتائی گئی تھی۔

اے ایس ڈبلیو جے کے ترجمان قاسم فاروقی نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مقتول صوبائی صدر مولانا معاویہ لاہور میں ایک اجلاس میں شرکت کے سلسلہ میں جارہے تھے کہ اس دوران مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان کے قتل کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ اہل سنت والجماعت کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی نے قتل کے اس واقعہ کو ایک بڑی سازش کا حصہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صورت حال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے۔

اس جماعت کے ایک اور عہدے دار نے ٹویٹر پر مختصر تحریر میں اپنے کارکنان سے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے خلاف ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔ اس شیعہ مخالف جماعت سے نظریاتی ہم آہنگی رکھنے والے کالعدم جنگجو گروپ لشکر جھنگوی نے فیس بُک پر پوسٹ کی گئی ایک تحریر میں مولانا شمس الرحمان معاویہ کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

اے ایس ڈبلیو جے کے کارکنان اپنے صوبائی صدر کے قتل کی اطلاع ملتے ہی لاہور میں سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے احتجاج شروع کردیا۔ واقعے کے فوری بعد لاہور کے مشہور انارکلی بازار کے تاجروں نے دکانیں بند کر دیں اور مظاہرین نے مال روڈ پر ٹریفک کو بند کردیا۔ دارالحکومت اسلام آباد میں بھی اہل سنت والجماعت کے کارکنان نے احتجاج کیا ہے اور شہر کی بیشتر مارکیٹیں سرشام ہی بند کردی گئیں۔ حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مساجد اور امام بارگاہوں کے باہر اور عوامی مرکز میں کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی ہے۔ کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے بطن سے جنم لینے والی جماعت کے صوبائی صدر کے قتل کا یہ واقعہ کراچی میں شیعہ جماعت مجلس وحدت المسلمین کے ایک سینیر رہ نما علامہ دیدار علی جلبانی کی فائرنگ کے اسی طرح کے واقعہ میں ہلاکت کے تین روز بعد پیش آیا ہے

واضح رہے کہ پاکستان میں اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان ایک عرصے سے فرقہ وارانہ کشیدگی چلی آرہی ہے لیکن گذشتہ ماہ اسلام آباد کے جڑواں شہر راول پنڈی میں اہل تشیع کے ماتمی جلوس کے شرکاء کے ایک مسجد اور مدرسے پر حملے کے بعد سے اس کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اب ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ تشدد کی بنیاد پر ان دونوں مذہبی گروہوں کے رہ نماؤں کے قتلوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ تاہم دونوں طرف کے اعتدال پسند علماء نے فریقین کو صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے اور ملک میں مذہبی ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔