.

لاپتہ افراد کیس، 30 افراد کو پیش نہ کیا جا سکا

سپریم کورٹ پاکستان نے حکومتی معلومات مسترد کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی سب سے بڑی آئینی عدالت سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کے سلسلے میں پیش رفت کا امکان پیدا ہوا جب وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے عدالتی حکم کے مطابق بقیہ تیس لاپتہ افراد کو پیش کرنے کے بجائے ان کے بارے میں سرکاری معلومات فراہم کیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وزیر دفاع کی جانب سے پیش کردہ معلومات کو مسترد کر تے ہوئے ان فراہم کردہ معلومات کو مفروضوں پر مبنی قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا '' یہ محض مفروضے ہیں کہ کوئی شمالی وزیرستان چلا گیا اور کوئی افغانستان چلا گیا ہے۔''

عدالت کیطرف سے یہ بھی کہا گیا کہ اگر یہ درست معلومات ہیں تو اس بارے میں کوئی ایسا ریکارڈ ضرور ہو گا جو ان کی رہائی کو ظاہر کرتا ہو گا، کہ کسے کب رہا کیا گیا۔

اس سے پہلے جب جمعہ کی صبح سپریم کورٹ میں اس انتہائی اہمیت اختیار کر جانے والے لاپتہ افراد کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وزیر دفاع اور اٹارنی جنرل منیر ملک موجود تھے، تاہم لاپتہ کیے گئے افراد ان کے ہمراہ نہیں تھے۔

وزیر دفاع نے کہا 30 افراد فی الحقیقت لاپتہ نہیں ہیں، نیز ان میں سے کوئی ایک بھی فرد فوج کے پاس نہیں ہے۔

خواجہ آصف نے کہا اگر عدالت حکم دے تو ان میں سے سات افراد عدالت میں پش کیا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ سات افراد لا پتہ نہیں ہیں۔ جبکہ تیس افراد میں سے آٹھ افراد افغانستان میں ہیں، اس لیے ان کو عدالت پیش کیا جانا ممکن نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا لوگوں کو کنہڑ میں کیوں چھوڑا گیا ، انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر بعد لوگوں پر مقدمے درج ہو سکتے ہیں۔

عدالت کو وزیر دفاع نے یہ بھی بتایا کہ دو لاپتہ افراد کا انتقال ہو چکا ہے، جبکہ صرف دو افراد حراستی مراکز میں ہیں تاہم یہ فوج کی حراست میں نہیں ہیں۔ ابھی عدالت میں مقدمے کی سماعت جاری ہے۔