.

لندن میں منی لانڈرنگ کیس میں دو پاکستانی نژاد گرفتار

پاکستان کی لسانی سیاسی جماعت کے سربراہ برطانوی شہری الطاف حسین سے تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس نے پاکستان کی لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کے سربراہ الطاف حسین کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کارروائیوں کے ایک سال بعد ایک مرتبہ پھر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور دو پاکستانی نژاد مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے ان سے چار لاکھ مالیت کے پاؤنڈز کے کالے دھن کو سفید کرنے (منی لانڈرنگ) کے الزام میں تفتیش کی ہے۔

ایم کیو ایم کے سربراہ برطانوی شہری الطاف حسین سے بھی چار لاکھ پاؤنڈز کی منی لانڈرنگ کے علاوہ لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور ایم کیو ایم کے ایک بانی رہ نما ڈاکٹر عمران فاروق کے پر اسرار قتل کے الزام میں تحقیقات کی جارہی ہے۔

لندن میٹرو پولیٹن پولیس کے ایک افسر رچرڈ جونز نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد وسطی علاقے میں واقع ایک پولیس اسٹیشن میں لے جایا گیا تھا۔ تاہم بعد میں دونوں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس منی لانڈرنگ کیس اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس کی بیک وقت تحقیقات کررہی ہے۔ میٹرو پولیٹن پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں جمعہ کو وسطی لندن میں واقع دو مکانوں پر چھاپے مارے گئے ہیں اور یہ کارروائی پولیس کے انسداد دہشت گردی یونٹ نے کی ہے۔

پولیس نے ایک سال قبل 8 دسمبر کو لندن کے علاقے ایجوئیر میں واقع الطاف حسین کے گھر میں چھاپہ مار کارروائی کی تھی اور وہاں سے بھاری مقدار میں نقدی اور اہم دستاویزات قبضے میں لے لی تھیں۔ اس کے بعد برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیو ایم اور اس کے سربراہ کے خلاف منی لانڈرنگ اور عمران فاروق کے قتل کیس کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

برطانوی پولیس یہ کہہ چکی ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو بظاہر ایک طے شدہ سازش کے تحت قتل کیا گیا تھا اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ انھیں دوسروں کی ارادی یا غیر ارادی مدد سے قتل کیا گیا ہو۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے بانی رہ نما ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 نومبر 2010ء کو لندن کے علاقے گرین لین میں واقع ان کے مکان کے نزدیک بڑے پراسرار انداز میں قتل کردیا گیا تھا۔ وہ اس وقت کام کی جگہ سے اپنے گھر واپس آرہے تھے۔ بعد میں ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان پر چاقو کے پے در پے وار کیے گئے تھے۔

پچاس سالہ مقتول ڈاکٹر عمران فاروق 1999ء سے لندن میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ 1980ء کے عشرے میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مہاجروں کے حقوق کے نام پر قائم کی گئی جماعت ایم کیو ایم (تب مہاجر قومی موومنٹ) کے بانیوں میں سے تھے۔ بعد میں اس جماعت کا نام تبدیل کرکے متحدہ قومی موومنٹ رکھ دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عمران فاروق کے مبینہ طور پر الطاف حسین اور جماعت کی دوسری قیادت سے اختلافات تھے اور یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ انھیں دراصل ایم کیو ایم کی قیادت ہی نے قتل کرایا تھا اور اس طرح انھیں راستے سے ہٹا دیا گیا تھا۔