.

لاپتہ 14افراد، نقاب اوڑھا کر عدالت میں پیش

گیارہ افراد 9 دسمبرکو پیش ہونگے، بارہ کو بنچ ٹوٹ جائیگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے مشہور زمانہ لاپتہ افراد کے مقدمے میں ہفتے کے روز کسی حد تک پیش رفت ہوگئی ہے۔ حکومت نے 14 افراد کو نقاب اوڑھا کر عدالت کی'' ان کیمرہ'' سماعت کیلیے پیش کردیا ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ رہی کہ ان افراد کو ان کے پیارے ہفتے کے روز بھی دیکھنے سے محروم رہے ہیں۔

اگر 12 دسمبر سے پہلے اس مقدمے کا فیصلہ نہ ہوسکا تو چیف جسٹس کی متوقع ریٹائر منٹ کے باعث سپریم کورٹ کا یہ فاضل بنچ ٹوٹ جائے گا۔

ایک دن کے وقفے کے بعد پیر کے روز حکومت اور اس کی وزارت دفاع ان گیارہ افراد کو بھی عدالت میں پیش کرنے کی پابند ہے، جن میں سے آٹھ کے بارے میں اس سے پہلے عدالت کو بتایا جا چکا ہے کہ وہ رہا ہو کر کنہڑ جاچکے ہیں۔

پیر کے روز لاپتہ افراد کیس کی سماعت کا یہ اہم ترین مرحلہ ہوگا کہ عدالت افغانستان موجود افراد کو عدالت میں پیش کرنے کی پابند ہے۔ اگر ایسا کسی وجہ سے ممکن نہ ہوا تو تین روز بعد عدالت کا موجودہ بنچ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے باعث ٹوٹ جائے گا، اور حکومت کو کچھ مزید وقت ملنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

بصورت دیگر چیف جسٹس نے اس اہم مقدمے کا ''فیصلہ ابھی ورنہ کبھی نہیں ''کی بنیاد پر کیا تو فیصلہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

ہفتے کے روز 14 لاپتہ افراد کو جسٹس امیر ہانی کے کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا تو اس موقع پر غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

لاپتہ افراد کے ورثاء کی الگ الگ آراء تھیں کہ انہیں اپنے گمشدہ پیاروں سے ملنے کیوں نہیں دیا گیا۔ تاہم اس معاملے پر سب خوش تھے کہ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے برسوں سے لاپتہ افراد میں سے کچھ پردے میں چھپ کر ہی سہی عدالت میں تو لائے گئے۔