امریکی وزیر دفاع کی نوازشریف سے ملاقات، نیٹو پر تبادلہ خیال

چار سال میں امریکی وزیر دفاع کا پہلا دورہ پاکستان ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی مفادات کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کے حامل خطوں کے جاری دورے کے سلسلے میں چک ہیگل نے کابل سے ہوتے ہوئے پاکستان پہنچ کر وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔

پچھلے چار سال میں کسی امریکی وزیر دفاع کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ چک ہیگل کی میاں نواز شریف کے ساتھ ملاقات کے موقع پر وزیر اعظم کے مشیر برائے سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز و دیگر بھی موجود رہے جبکہ امریکی وزیر دفاع کی معاونت کیلیے اسلام آباد میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن بھی اس اہم ملاقات میں شریک ہوئے۔

میاں نواز شریف اپنے دورہ امریکا کے موقع پر چک ہیگل سمیت اہم سکیورٹی حکام سے تفصیلی تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق چک ہیگل کے پاکستان کے دورے کا اہم ترین موضوع نیٹو سپلائِی کا رکا ہوا سلسلہ ہے، جبکہ پاکستانی حکام امریکی ڈرون میزائل حملوں کے سلسلے میں بڑھے ہوئے عوامی اور سیاسی دباو کے باعث بظاہر بے بس نظر آتے ہیں۔

چک ہیگل پاکستان کے اس غیر معمولی دورے کے موقع پر آج نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور دوسرے سکیورٹی حکام سے بھی ملیں گے۔

امریکی وزیر دفاع ایک ایسے موقع پر پیر کے روز آئے ہیں جب امریکا اور پاکستان کے درمیان تعاون کے معاہدات ان دنوں مشکلات سے دوچار نظر آتے ہیں۔ سب سے اہم وجہ امریکی ڈرون حملے ہیں جنہیں امریکی صدر اوباما ہر صورت جاری رکھنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

پاکستان پہنچنے سے پہلے چک ہیگل نے افغان صدر حامد کرزئِی سے بھی ملاقات کی اس موقع پر امریکا اور افغانستان کے درمیان مجوزہ معاہدے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ نیٹو سپلائِی میں تعطل سے پیدا شدہ صورت حال پر بھی بات ہوئی۔

چک ہیگل خلیجی ممالک اور سعودی عرب کے دفاعی ذمہ داران سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کر چکے ہیں جہاں انہوں نے خلیجی ممالک میں 35 ہزار کے قریب امریکی فوجیوں کو موجود رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں