.

پاکستان: چیف جسٹس ریٹائرڈ ''اسکے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہو گا''

نئے چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی کل حلف اٹھائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کو ایک نیا تعارف اور شناخت دنیے والے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری آج ریٹائر ہو جائیں گے۔ ان کی عدل و انصاف اور آئین و قانون کی بالا دستی کیلیے خدمات کے اعتراف میں انسانی آزادیوں کا وہی عالمی ایوارڈ ملا جو اس سے پہلے عظیم عالمی ہیرو آنجہانی نیلسن منڈیلا کو مل چکا تھا۔

وہ اپنے عدلیہ کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ پر اعتماد اور قابل اعتماد ہی نہیں زیادہ ذمہ دار بھی بنا کر جا رہے ہیں۔ نئے چیف جسٹس آف پاکستان اور ان کی ٹیم اس حوالے مسلسل ایک چیلنج کا سامنا کرتی رہے گی۔ ماتحت عدالتوں کے حالات کار اور تشخص کو بہتر بنانے کی زیادہ ذمہ داری نئے آنے والوں پر رہے گی۔

پاکستان میں طویل عرصے تک چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پاکستان کی سب سے بڑی آئینی عدالت کے سربراہ رہے۔ اس دوران وزرائے اعظم سے لیکر سابق فوجی سربراہان اور مختلف انتظامی و اداراتی سربراہوں اور حاضر سروس جرنیلوں تک کو عدالت میں طلب کرتے رہے۔

ایک وزیر اعظم ایک سے زائد نیب سربراہان سمیت بیورو کریسی کے اہم ذمہ داروں کونہ صرف اپنی عدالت میں طلب کیا بلکہ گھر بھجوانے کا بھی حکم جاری کیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان ہوتے ہوئے تین مسلسل حکومتیں جن میں جنرل پرویز مشرف اور شوکت عزیز کی حکومت سے صدر آصف علی زرداری کے ساتھ یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کی حکومت کے بعد میاں نوازشریف کی موجودہ حکومت بھی ان کے ہاتھوں پریشان رہیں۔

ملک کے سیاسی، عسکری اور کاروباری ٹائیکون میں سے تقریبا ہر ایک ان کی زد میں آنا پڑا اور زخم چاٹنے پر مجبور ہوں۔ اپنے بیٹے کے حوالے سے بھی حکم جاری کیا۔ اگرچہ بعض لوگ اس معاملے میں ان سے زیادہ توقعات وابستہ کیے ہوئے تھے۔ آج وہ ایک تاریخی فل کورٹ ریفرینس کے بعد اپنی آئینی مدت پوری کرکے رخصت ہو رہے ہیں۔

فل کورٹ ریفرنس کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان منیر اے ملک نے چیف جسٹس کے دور کو تاریخی قرارا دیا اور کہا''چیف جسٹس نے عدالت اور آئین سمیت ہر چیز کو بدل دیا، از خود نوٹس کے تحت انہوں نے انصاف عام لوگوں کیلیے انصاف کی فراہمی ممکن بنائی۔''

ان کی ریٹائر منٹ کے موقع پر پارلیمنٹ کے ارکان اور سیاستدانوں نے بھی ان دور عدل کو تاریخی قرار دیا۔ بعضوں کے مطابق وہ بھی ماضی میں ایسے فیصلوں کا حصہ رہے جن کی تعریف آسان نہیں۔ تاہم 9 مارچ 2007 کے بعد وہ ایک نئی عدلیہ کے بانی اور مختلف جج ثابت ہوئے۔

پاکستان کے عسکری ادارے، پولیس، نیب، مالیاتی ادارے اور کرپشن میں لتھڑے ہوئے ادارے و سرکاری محکمے ہر ایک کو چیف جسٹس آف پاکستان کی گرفت کا خوف اور اسلوب عدل سے شکایت رہی۔ لیکن بالعموم سبھی نے عدلیہ کے احترام کی ابھرتی روایت کو کم از کم زبانی اعتبار سے آگے بڑھانے کی کوشش کی۔

بدھ کے روز جب ان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرینس جاری تھا تو اس وقت بھی حکومت اور عسکری اداروں کے لیے مشکل فیصلوں کی گونج موجود تھی۔ اپنی قانون پسندی کے باعث ان کے قریب رہنے والے ان کے وکلا دوست بھی ان سے دور ہو گئے، لیکن چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس کی پروا نہ کی۔ حتی کہ اپنے دوست وکلا کے مقدمات میں ان کے موکلین کیخلاف فیصلے دیے۔

پاکستان کے نئے چیف جسٹس سید تصدق حسین جیلانی جمعرات کے روز اپنے منصب کا حلف اٹھائیں گے ، جو پہلے ہی جسٹس افتخار کو اپنے لیے رول ماڈل قرار دے چکے ہیں۔