نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی حلف برداری اور پہلا ازخود نوٹس

عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار کے نوٹ پر جسٹس جیلانی کا ویڈیو فوٹیج کی تحقیقات کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے نئے چیف جسٹس ،جسٹس تصدیق حسین جیلانی نے جمعرات کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔انھوں نے منصب سنبھالنے کے فوری بعد گذشتہ روز سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس ،جسٹس افتخارمحمد چودھری کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرینس کی فوٹیج لیک ہونے کے معاملے کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس نے عدالت عظمیٰ کے ایڈیشنل رجسٹرار محمد علی کو فوٹیج لیک ہونے کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ اس کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔

انھوں نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے ایک نوٹ پر یہ ازخود نوٹس لیا ہے جس میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں نشر اور شائع ہونے والی ان رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے کہ ایک خاص میڈیا گروپ کو عدالت عظمیٰ کے کورٹ روم نمبر1 میں فل کورٹ ریفرینس کی کارروائی کی بطور خاص فوٹیج بنانے کی کیوں اجازت دی گئی تھی اور دوسروں کو اس سے کیوں محروم رکھا گیا ہے۔

پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینل جیو نے یہ فوٹیج بنائی اور نشر کی تھی جس پر دوسرے میڈیا اداروں نے بہت شوروغوغا کیا ہے اور انھوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اس ایک خاص ٹی وی چینل ہی کو کیوں فل کورٹ ریفرینس ریکارڈ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔انھوں نے اس ضمن میں سپریم کورٹ کی انتظامیہ کی جانب انگلیاں اٹھائی ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ فل کورٹ ریفرینس کی کارروائی اس طرح نشر کی گئی ہے۔

قبل ازیں جسٹس تصدق حسین جیلانی نے پاکستان کے اکیسویں چیف جسٹس کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔صدر پاکستان ممنون حسین نے ایوان صدر اسلام آباد میں ان سے حلف لیا۔

حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم میاں نواز شریف ،سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ،عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان، وفاقی کابینہ کے ارکان اورغیر ملکی سفیروں نے شرکت کی۔صدر اور وزیراعظم دونوں نے جسٹس جیلانی کو چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی ہے۔

جسٹس جیلانی ریٹائرڈ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بعد عدالت عظمیٰ کے سب سے سینیر جج ہیں۔انھیں 2004ء میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔انھوں نے بھی اپنے پیش رو کی طرح سابق فوجی صدر جنرل پرویزمشرف کی نومبر 2007ء میں نافذ کردہ ایمرجنسی کے بعد عبوری آئینی حکم نامے (پی سی او) کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا جس پر سابق صدر مشرف نے انھیں برطرف کردیا تھا۔

فوجی آمر کے اس اقدام کے خلاف وکلاء ،صحافیو، سول سوسائٹی اور جمہوریت پسندوں نے ملک گیر احتجاجی تحریک برپا کی تھی جس کے نتیجے میں اعلیٰ عدلیہ کے معزول ججوں کی بحالی ممکن ہوئی تھی اور مطلق العنان فوجی صدر جنرل مشرف کے اقتدار کا سورج بھی غروب ہوگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں