جنرل مشرف کیخلاف مقدمہ بغاوت، کرسمس سے ایک روز پہلے طلبی

حکومت دستور شکنی کے رجحان سے'' وایا بٹھنڈہ'' نمٹنے کیلیے کمر بستہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق صدر اور پاک فوج کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیخلاف وفاقی حکومت کی درخواست کو قابل پذیرائی قرار دیتے ہوئے خصوصی عدالت نے بغاوت کیس میں 24 دسمبر کو طلب کر لیا ہے۔

جنرل پرویز مشرف کو خصوصی عدالت نے ایک موقع پر طلب کیا ہے جب ایک طرف پاکستان میں عدالتوں میں سرما کی تعطیلات چل رہی ہوتی ہیں اور دوسری جناب سابق آرمی چیف کے بیرونی مہربانوں کی اکثریت کرسمس کی خوشیوں میں مگن ہو گی۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیخلاف جمعرات کے روز وفاقی سیکرٹری داخلہ شاہد خان نے خصوصی عدالت سے ایک تحریری درخواست کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ تین رکنی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں جمعہ کے روز سیکرٹری داخلہ کی درخواست کا جائزہ لیا گیا اور درخواست میں اٹھائے گئے نکات کی بنیاد پر ملزم پرویز مشرف کو 24 دسمبر کو پیش ہونے کا حکم دیا۔

واضح رہے تین رکنی عدالت کے دوسرے دو ارکان میں جسٹس یاور علی اور جسٹس طاہرہ صفدر شامل ہیں۔ اس خصوصی عدالت کی تشکیل کیلے حکومتی مطالبے پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ججوں کے نام پیش کیے جن کی حتمی منظوری حکومت نے دی تھی۔

24 دسمبر کو خصوصی عدالت چھ سال قبل 3 نومبر 2007 کو مبینہ آئین شکنی پر مبنی کیے گئے جنرل مشرف کے اقدامات کی بنیاد پر سماعت کا آغاز کرے گی۔ سپریم کورٹ اس حوالے سے پہلے ہی آئین شکنی کی نشاندہی کر چکی ہے۔ جس کے تحت وفاقی حکومت نے مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم فی الحال حکومت بارہ اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت کے بارے میں کسی اقدام پر مائل نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت جنرل پرویز کی پہلی دستور شکنی پر کارروائی سے کئی پردہ نشینوں کے خلاف کارروائی کا راستہ کھل سکتا ہے ۔ لیکن اس کیلیے حکومت براہ راست کچھ کرنے کے بجائے '' وایا بٹھنڈہ '' کارروائی کی کوشش میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں