.

"عبدالقادر ملا کو پھانسی پاک فوج کے خلاف سازش ہے"

پاکستان فوج کے ریٹائرڈ افسروں نمائندہ تنظیم کی قرارداد مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما عبدالقادر ملا کو 1971 میں پاک فوج کی مدد کرنے اور پاکستان توڑنے والوں کے خلاف لڑنے کی پاداش میں دی گئی۔ پھانسی کی سابق عسکری ملازمین کی تنظیم "ایکس سروس مین سوسائٹی" نے سخت مذمت کی ہے اور اسے پاکستانی فوج کے خلاف سازش قرار دیا ہے-

ایکس سروس مین سوسائٹی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گل کے زیر صدارت بھارتی سرحد سے جڑے ضلع شیخوپورہ میں منعقدہ اجلاس کے دوران عبدالقادر ملا کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کے خلاف منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ جماعت اسلامی یا اسکے رہنما کے خلاف اقدام نہیں ہے بلکہ پاکستان اور پاکستان کی فوج کے خلاف اقدام ہے-

واضح رہے کہ ایکس سروس مین سوسائٹی کے ذمہ داران کے نزدیک سعودی عرب کے شاہ فیصل مرحوم کی مدد سے 1973 ہونے والے اس سہ فریقی معاہدے کی خلاف ورزی ہے- جس میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش تینوں نے اتفاق کیا تھا کہ جنگ کے حوالے سے تینوں ملک کسی کے خلاف مقدمہ نہیں چلائیں گے-

پاکستان کے 20 لاکھ سے زائد سابق فوجی افسران اور سپاہیوں کی مشترکہ تنظیم نے اپنی قرارداد میں حکومت پاکستان اور پاک فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ عبدالقادر ملا کو پھانسی دیئے جانے کے خلاف سخت موقف اختیار کیا جائے-

خیال رہے کہ پاک فوج میں ایسے افسران آج بھی موجود ہیں جنھوں نے 1971کی جنگ میں حصہ لیا تھا اور جماعت اسلامی کے نوجوانوں کی تنظیموں البدر اور الشمس نے مدد کی تھی-

ایکس سروس مین سوسائٹی کے سربراہ جنرل حمید گل نے 42 برس بعد ایک متنازعہ جنگی ٹربیونل کے ذریعے سنائی گئی سزاوں کو پاکستان کو گھیرنے کی ایک سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے سیاستدانوں کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "بعض سیاستدان پا ک فوج کو ذلیل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں-"

ایکس سروس مین سوسائٹی کے ذرائع کے مطابق ضروری ہوا تو آئندہ دنوں سوسائٹی کے اعلی عہدیداروں اور ریٹائرڈ جرنیلوں کا ایک وفد وزیر اعظم نواز شریف اور فوجی قیادت کو مل کر اپنے جذبات اور مطالبات سے براہ راست آ گاہ کرے گا-