.

پاکستان اور ترکی کا باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق

ترک وزیر اعظم کا لاہور پہنچنے پر شاندار استقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن نے پیر کے روز دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی تعلقات اور روابط بڑھانے پر زور دیا ہے۔

دونوں رہنماوں نے توانائی، ٹرانسپورٹ، مواصلات، انفراسٹرکچر، ٹیکسٹائل، آٹو موبائل، زراعت، صنعت، فوڈ پروسیسنگ، ڈیری، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں پر مشترکہ طور پر سرمایہ کاری اور دو طرفہ منصوبوں پر زور دیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے ان خیالات کا اظہار پاک ترک بزنس فورم میں کیا۔

اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار، ترک وزیر برائے معاشیات ظفر کیغالیان سمیت کئ اہم کاروباری شخصیات، وزرا اور دیگر افراد شریک ہوئے۔

تقریب میں دونوں اطراف کی جانب سے تین اہم مفاہمتی یادداشت ( ایم او یوز) پر دستخط کئے گئے جو ترک تعاون ایجنسی اور محکمہ صنعت پنجاب ، پاکستان ریلوے اور ترکش لاجسٹک آرگنائزیشن اور پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ( پی ایس کیو سی اے) اور ترکش اسٹینڈرڈ انسٹی ٹیوٹ کے درمیان طے پائے تھے۔

اپنے خطاب میں ترک وزیرِ اعظم طیب ایردوآن نے نواز نے گرمجوشی سے کئے گئے استقبال پر پاکستانی عوام اور وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں لاہور کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترک عوام بھائی چارے کے رشتے میں منسلک ہے اور ' مجھے ان تعلقات پر فخر ہے۔' انہوں نے پاک ترک تعاون بڑھانے پر موجودہ حکومت کے کردار کو بھی سراہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف کے حالیہ دورہ ترکی کے درمیان ہم نے تجارتی اور معاشی تعلقات کی مزید مضبوطی کا عزم کیا تھا اور میرا یہ دورہ بھی اسی کا حصہ ہے۔

ایردوآن نے شرکا کو بتایا کہ وہ اپنے ساتھ ترکی 39 کمپنیوں کے نمائیندوں کو لے کر آئے ہیں اور تجارتی وفد بھی بہت بڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع دریافت کرنے کیلئے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت صرف 83 ملین امریکی ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے جو ممکنہ تجارتی استعداد سے بہت کم ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم لاہور پہنچے تو ان کے استقبال کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے گیے تھے، اس موقع پر اکیس توپوں کی سلامی دی گئی، آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے بچوں نے بھی اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ رات کو لاہور کے حضوری باغ میں ترک مہمانوں کے اعزاز میں ایک عشائیہ بھی دیا گیا۔ ترک وزیر اعظم کی قیادت میں مہمانوں کا وفد منگل کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔