.

پاکستان میں یرغمال امریکی کی اوباما سے رہائی کے لیے مدد کی اپیل

امریکی صدر متعلقہ حکام کواغوا کاروں سے مذاکرات کی ہدایت کریں: ویڈیو بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں دوسال قبل اغوا کیے گئے 72 سالہ امریکی کنٹریکٹر وارن وین اسٹین نے صدر براک اوباما سے اپنی رہائی کے لیے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں انھیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا اور بھلا دیا گیا ہے۔

وین اسٹین کی جمعرات کو ایک نئی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ اس سے پہلے ستمبر 2012ء میں ان کی دو ویڈیوز جاری کی گئی تھیں۔یہ نئی ویڈیو اور اس کے ساتھ وین اسٹین کا ایک خط کسی نامعلوم شخص کی جانب سے رپورٹروں کو بھیجا گیا ہے۔اس پر القاعدہ کے میڈیا ونگ 'الصحاب 'کا لیبل لگا ہوا ہے۔

خط پر 3 اکتوبر 2013ء کی تاریخ درج ہے۔ ویڈیو میں وین اسٹین ایک سفید دیوار کے آگے بیٹھے بول رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ وہ گذشتہ دو سال سے یرغمال ہیں۔ وہ امریکی صدر براک اوباما سے مخاطب ہو کر کہہ رہے ہیں:''آپ اس وقت بطور صدر امریکا اپنی دوسرے مدت گزار رہے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ دوبارہ انتخاب سے متعلق کسی قسم کے خوف سے بے نیاز ہو کر سخت فیصلے کرسکتے ہیں''۔

وہ تیرہ منٹ کی اس ویڈیو میں بتا رہے ہیں کہ ''میں نو سال قبل اپنی حکومت کی مدد کے لیے پاکستان آیا تھا اور میں ایسے وقت میں اس ملک میں آیا تھا جب بہت سے امریکی یہاں آنے سے کترا رہے تھے۔اب جب مجھے میری حکومت کی مدد کی ضرورت ہے تو یہ لگتا ہے کہ مجھے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے اور بھلا دیا گیا ہے۔اس لیے میں ایک مرتبہ پھر آپ سے (صدر اوباما سے) اپیل کرتا ہوں کہ آپ اپنے متعلقہ عہدے داروں کو میری کے لیے مذاکرات کی ہدایت کریں''۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان اور وین اسٹین کے خاندان کے ایک فرد کا کہنا ہے کہ انھیں یہ خط یا ویڈیو الگ سے نہیں ملی ہے۔

واضح رہے کہ وین اسٹین کو پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں اگست 2011ء میں ان کی جائے قیام گھر سے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ وہ امریکی فرم جے ای آسٹن کے پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ یہ فرم کاروباری اور سرکاری شعبوں کو مختلف امور کے حوالے سے مشاورت فراہم کرنے کا کام کرتی ہے۔

القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے 2011ء میں ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر امریکا افغانستان، پاکستان، صومالیہ اور یمن پر فضائی حملے روک دیتا ہے تو وین اسٹین کو رہا کر دیا جائے گا۔ انھوں نے دنیا بھر میں قید القاعدہ اور طالبان کے تمام مشتبہ افراد کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے تب وین اسٹین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ القاعدہ کے ساتھ اس سلسلے میں کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔امریکی یرغمالی کی یہ نئی ویڈیو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ زندہ ہیں۔اس سے پہلے ستمبر 2012ء میں جاری کردہ ویڈیو بیان میں وین اسٹین نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو''ایک یہودی کا دوسرے یہودی'' کے لیے پیغام کے نام پر مخاطب کیا تھا اور ان سے اپنی رہائی کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ وہ القاعدہ سے ان کی بازیابی کے لیے مذاکرات کے ضمن میں مدد کریں۔