پاکستان میں ایک اور پولیو ورکر ہلاک، ایک زخمی

پولیو ورکرز پر حملہ پشاور شہر سے باہر داخلی راستے پر ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے صوبہ خبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور سے باہر کے راستوں پر آنے جانے والے خاندانوں کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر مامور کارکنوں میں ایک ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ جہاں پولیو کے قطرے پلانے کے بارے میں دورائے پائی جاتی ہیں پولیو کارکن عام شہروں، قصبات اور دیہات میں بچوں کو قطرے پلانے کیلیے گھروں پر دستک دینے اور گلیوں میں جاکر پلانے کے معمول سے ہٹ کر شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں حتی کہ نسبتا سنسان علاقوں میں بھی پولیو آپریشن کا اہتمام کرتے ہیں۔

واضح رہے پاکستان میں کہیں بھی پولیو کے قطرے پلانے والوں کا یہ طریقہ نہیں ہے۔ بلکہ گلی محلوں میں گھروں پر دستک دے کر یا پھر سرکاری ڈسپنسریوں میں یہ قطرے پلانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز پولیو ٹیم پر حملہ پشاور سے باہر پشاور کے داخلی راستے متنی سے متصل علاقے میں پیش آیا ہے، جس میں ایک پولیو ورکر ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیو ٹیم پر اچانک ایک مسلح گروپ نے فائرنگ کر دی جس سے ایک کارکن مارا گیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔

یہ پولیو ٹیم شہر میں داخل ہونے والے مسافر خاندانوں کے انتظار کرتے ہیں اور ان کے کمسن بچوں کو قطرے پلاتے ہیں۔ انسداد پولیو حکام نے ان علاقوں میں ردعمل کے باوجود دیگر علاقوں کے مقابلے میں نسبتا جارحانہ انداز اختیار کیا ہے، تاکہ قطرے پلانے کی مہم کی زیادہ وسعت تک رسائی ہو سکے۔

اس مقصد کیلیے تشکیل دی گئی خصوصی ٹیمیں بین القصباتی اور بین الاضلاعی سڑکوں پر، ان سڑکوں پر بنے چائے خانوں اور بس سٹاپوں تک ہر جگہ پہنچ کر اپنا مشن مکمل کرتی ہیں جو بعض اوقات کافی پرخطر بن جاتا ہے۔

صحت عامہ سے متعلق محکمے کے حکام کے مرتب کردہ اعداد وشمار کے مطابق ایک سال کے دوران پولیو ورکرز کی ہلاکتوں کے سترہ واقعات ہو چکے ہیں۔ کچھ عرصے سے پشاور کے قرب وجوار میں پولیو ورکرز کیلیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

عسکریت پسندوں کے حملوں کے پیش نظر پولیس ان ٹیموں کو سکیورٹی بھی فراہم کرنے کا اہتمام کرتی ہے تاہم دور دراز کے علاقوں میں پولیس نفری کم ہونے کی وجہ سے مکمل سکیورٹی دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

یاد رہے عسکریت پسند پولیو ورکرز کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کے تجربے کی روشنی میں مشکوک قرار دیتے ہیں کہ یہ ٹیمیں ان کے خلاف متحرک ہوتی ہیں۔ بعض لوگ لاعلمی کی وجہ سے پولیو کے قطرے اپنے بچوں کو پلانے پر آمادہ نہیں ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر شکیل پر الزام ہے کہ اس نے ایسی ہی ایک مہم کی آڑ میں امریکی سی آئی اے کیلے اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کا پتہ چلانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں