.

پاکستانی فوج میرے ساتھ ہے: پرویز مشرف کا دعوی

'فوج اپنے سابق سربراہ کو سول عدالت میں رسوا نہیں دیکھنا چاہتی'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق صدر جنرل [ریٹائرڈ] پرویز مشرف نے اپنے خلاف غداری کے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ انہیں ملکی فوج کی حمایت حاصل ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز اسلام آباد میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کیا۔ خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق رواں برس اپریل میں اپنی نظر بندی کے بعد انٹرنیشنل میڈیا سے یہ ان کی پہلی بات چیت ہے۔

اس گفتگو میں 70 سالہ مشرف نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے خلاف غداری کے الزامات پر ’پوری فوج‘ کو پریشانی لاحق ہے۔ پرویز مشرف کو مارچ میں وطن لوٹنے کے بعد سے متعدد مقدمات اور الزامات کا سامنا ہے، جن میں غداری کے دعوے ممکنہ طور پر سب سے زیادہ سنجیدہ ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق اس مقدمے نے حکومت کے لیے ممکنہ طور پر طاقتور فوج کے ساتھ تصادم کی صورت پیدا کر دی ہے۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ فوج اپنے سابق سربراہ کو سویلین عدالت کے ہاتھوں رسوا ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی۔

پرویز مشرف نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو میں مزید کہا: ’’میں یہ کہوں گا کہ پوری فوج پریشان ہے، میں نے آگے بڑھ کر فوج کی قیادت کی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’مجھے جو فیڈ بیک ملی ہے اس کے تحت بلاشبہ پوری فوج ۔۔۔ اس معاملے میں مکمل طور پر میرے ساتھ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’جس طریقے سے ٹریبیونل تشکیل دیا گیا ہے، جس عمل میں وزیر اعظم اور سابق چیف جسٹس شامل ہیں، اس سے انتقامی کارروائی کی بُو آتی ہے۔‘‘

یاد رہے کہ پاکستانی فوج 66 سالہ ملکی تاریخ کے نصف سے زائد برسوں تک اقتدار میں رہی ہے اور آج بھی بہت اثر و رسوخ کی حامل ہے۔ تاہم فوج نے پرویز مشرف کو درپیش قانونی مسائل پر کھُل کر کوئی بیان نہیں دیا۔

ان کے خلاف غداری کا مقدمہ نومبر2007ء میں ان کی حکومت کے دوران ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق ہے۔ اس مقدمے میں انہیں مجرم قرار دیا گیا تو انہیں سزائے موت یا عمر قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اس مقدمے کی سماعت ایک خصوصی ٹریبیونل کر رہا ہے۔ ابتدائی سماعت 24 دسمبر کو ہونا تھی، جو اُس راستے پر دھماکا خیز مواد ملنے کے بعد روک دی گئی تھی، جہاں سے گزر کر پرویز مشرف عدالت جانے والے تھے۔ آئندہ سماعت یکم جنوری کو ہو گی تاہم مشرف نے کہا ہے کہ انہوں نے عدالت میں پیش ہونے سے متعلق ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

پرویز مشرف کے وکلاء نے غداری کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت مشرف کے ساتھ عدلیہ کے ذریعے پرانی دشمنی نکال رہی ہے۔