سابق آرمی چیف پرویز مشرف غداری کیس، فرد جرم قریب آ گئی

زیر سماعت مقدمے پر تبصرے کرنا توہین عدالت ہے: اے کے ڈوگر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے سابق صدر اور ریٹائرڈ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے خلاف آج نئے سال کے پہلے روز امکانی طور پر غداری کے مقدمے میں فرد جرم عاید کی جا سکتی ہے۔

جنرل ریٹائر پرویز مشرف وفاقی حکومت کے خلاف غداری کا وفاقی حکومت کی درخواست پر شروع کیا گیا ہے جس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ نے سابق فوجی سربراہ کے تین نومبر 2007 کو آئین توڑنے کے اقدام کو آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلانے کی استدعا کی تھی۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے آئین کو توڑتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کی اور اعلی عدالتوں کے ججوں کو نظر بند کیا تھا۔ اس سلسلے میں پاکستان کی سپریم کورٹ پہلے ہی جنرل پرویز مشرف کو آئین شکنی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے آئین کے مطابق حکومت کو کارروائی کرنے کیلیے کہا تھا۔

اسلام آباد میں اس مقصد کیلیے بطور خاص قائم خصوصی عدالت نے 24 دسمبر 2913 کو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو یکم جنوری کو اصالتا عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی خصوصی عدالت، خصوصی عدالت کے ججوں کی تقرری اور خود جج حضرات کے ججوں پر بھی اعتراض کیے تھے۔ تاہم اسلام آباد عدالت عالیہ نے ان کی اس استدعا کو خارج کر دیا ۔

جنرل پرویز مشرف نے یکم جنوری کو خصوصی عدالت میں پیشی سے محض ایک روز قبل منگل کے روز عدالت عالیہ کے اس فیصلے کیخلاف ایک انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے ،جس پر تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

اس صورت حال میں سپریم کورٹ کے سینئِر وکیل اے کے ڈوگر کا کہنا ہے کہ جب تک پرویز مشرف کی انٹرا کورٹ اپیل پر عدالت عالیہ حکم امتناعی جاری نہیں کرتی ہے غداری کیس کی خصوصی عدالت میں سماعت پر کچھ اثر نہیں پڑے گا۔ اے کے ڈوگر نے سابق صدر کی طرف سے خصوصی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہونے کے باوجود اس پر ذرائع ابلاغ میں تبصرے کرنے کو غیر قانونی اور توہین عدالت قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں