.

مشرف غداری کیس ، سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود بارود برآمد

2014 کی اہم ترین سماعت، پرویز مشرف عدالت میں نہ آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق صدر اور ریٹائرڈ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے خلاف آج نئے سال کے پہلے روز امکانی طور پر غداری کے مقدمے میں فرد جرم عاید کی جا نا بظاہر مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ جنرل پرویز مشرف کو آج بھی عدالت نے پیش نہیں کیا جا سکا ہے۔ عدالت میں پیش نہ کر سکنے کی وجہ ایک مرتبہ پھر سکیورٹی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ان کے گھر کے پاس سے آج یکم جنوری کو تیسری مرتب مبینہ بارودی مواد ملا ہے۔ یہ بارودی مواد اس کے باوجد سامنے آیا ہے کہ سخت سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے تھے۔ انہیں عدالتی حکم کے تحت سخت حفاظتی انتظامات میں ان کے شاہانہ فارم ہاوس سے لا کر عدالتی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی تیاری کی گئی تھی۔ سینکڑوں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئےتھے۔ کسی ملزم کو پاکستانی تاریخ میں سب سے زیادہ ملنے والا سکیورٹی پروٹو کول کہا جا سکتا ہے لیکن پھر مشرف کی مدد کیلیے نہ چلنے والا بارود پہنچ گیا۔

راگ رنگ اور موج میلے کے شوقین سابق فوجی سربراہ کیلیے یہ پہلا برا موقع تھا کہ انہوں نے نیو ائِر نائٹ اپنے من پسند مشاغل کے بجائے اپنے مشیران کے مشورے کرنے میں بسر گذاری تاکہ کسی صورت فرد جرم کو موخر رکحا جاسکے۔ یہ اس لیے ضروری ہوا کہ ان کی طرف سے مدد کیلیے غیر رسمی طور پر آرمی چیف کو پکارنے کے باوجود ظاہرا کہیں سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا ہے۔

واضح رہے جنرل ریٹائرپرویز مشرف وفاقی حکومت کے خلاف غداری کا وفاقی حکومت کی درخواست پر شروع کیا گیا ہے جس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ نے سابق فوجی سربراہ کے تین نومبر 2007 کو آئین توڑنے کے اقدام کو آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلانے کی استدعا کی تھی ۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے آئین کو توڑتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کی اور اعلی عدالتوں کے ججوں کو نظر بند کیا تھا۔ اس سلسلے میں پاکستان کی سپریم کورٹ پہلے ہی جنرل پرویز مشرف کو آئین شکنی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے آئین کے مطابق حکومت کو کارروائی کرنے کیلیے کہا تھا۔

اسلام آباد میں اس مقصد کیلیے بطور خاص قائم خصوصی عدالت نے 24 دسمبر 2913 کو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو یکم جنوری کو اصالتا عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی خصوصی عدالت، خصوصی عدالت کے ججوں کی تقرری اور خود جج حضرات کے ججوں پر بھی اعتراض کیے تھے۔ تاہم اسلام آباد عدالت عالیہ نے ان کی اس استدعا کو خارج کر دیا ۔

جنرل پرویز مشرف نے یکم جنوری کو خصوصی عدالت میں پیشی سے محض ایک روز قبل منگل کے روز عدالت عالیہ کے اس فیصلے کیخلاف ایک انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے ،جس پر تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

اس صورت حال میں سپریم کورٹ کے سینئِر وکیل اے کے ڈوگر کا کہنا ہے کہ جب تک پرویز مشرف کی انٹرا کورٹ اپیل پر عدالت عالیہ حکم امتناعی جاری نہیں کرتی ہے غداری کیس کی خصوصی عدالت میں سماعت پر کچھ اثرنہیں پڑے گا۔ اے کے ڈوگر نے سابق صدر کی طرف سے خصوصی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہونے کے باوجود اس پر ذرائع ابلاغ میں تبصرے کرنے کو غیر قانونی اور توہین عدالت قرار دیا ۔

یکم جنوری کو خصوصی عدالت کی سماعت کا آغاز ہوا تو جنر پرویز مشرف کے وکیل تو موجود تھے لیکن جنرل مشرف موجود نہ تھے۔ عدالتی استفسار پر ان کے وکلا نے بتایا کہ اج پھر ان کے گھر کے سامنے سے بارودی موادملا ہے ۔ اس لیے ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔ اس ن=موقع پر پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا اگر عدالت آتے ہوئے پرویز مشرف کو کچھ ہواتو اس کی ذمہ داری عدالت پر ہو گی۔ جوابا عدالت نے اسپر قدرے برہمی ظاہر کی اور کہا عدالت کو دھمکیاں نہ دی جائیں۔

جنرل پرویز مشرف کو 2014 کے پہلے ہی روز جس کسمپرسی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اگر ان کے بیرونی دوستوں کی طرف سے ہمدردانہ سرگرمی سامنے نہ آئی تو ماہرین کا خیال ہے کہ ان کے خلاف کیس اتنا مضبوط ہے کہ سزا سے بچنا مشکل ہو گا ۔ واضح رہے پاکستان میں منتخب حکمرانوں کے ساتھ اس سے پہلے بھی ایسا سلوک ہوتا رہا ہے کہ انہیں عدالتی کٹہروں اور جیلوں کا سامنا کر پڑا ہو لیکن کسی فوجی آمر کیلیے ایک ملزم کے طور پر عدالت میں طلب کیے جانے کا یہ پہلا موقع ہے۔ سابق آرمی چیف کیلیے انتہائی سکیورٹی کے باوجود '' امدادی بارود '' کون چھوڑ جاتا ہے، یہ ابھ واض نہیں ہے۔

جنرل پرویز مشرف کیلیے افسوسناک بات یہ ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے ان کے اس دعوے کو رد کر دیا ہے کہ اس صورت حال پر فوج میں پریشانی پائی جاتی ہے۔ فوج کے سابق افسران کی تنظیم ایکس سروس مین سوسائٹی نے بھی جنرل مشرف کی مدد نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔